دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 248
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 248 جعلی حوالے تو پہلے ہی پیش کئے جا رہے تھے۔اس مرحلہ پر پہنچ کر ایک اور طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ایک ایسا حوالہ پیش کیا گیا جس کی آدھی عبارت صحیح تھی اور آدھی خود ساختہ تھی۔اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت خلیفة المسیح الثانی کی تقریر "ملائكة الله " کے صفحہ 46و47 کی یہ عبارت پڑھی۔66 کیا صحیح ناصری نے اپنے پیروؤں کو یہودیوں سے الگ نہیں کیا۔کیا وہ انبیاء جن کے زمانے کا علم ہم تک پہنچا ہے اور ہمیں ان کے ساتھ جماعتیں بھی نظر آتی ہیں انہوں نے اپنی جماعتوں کو غیروں سے الگ نہیں کیا۔ہر شخص کو ماننا پڑے گا کہ بے شک کیا ہے پس اگر حضرت مرزا صاحب نے جوایک نبی اور رسول ہیں اپنی جماعت کو منہاج نبوت کے مطابق اپنی جماعت کو غیروں سے علیحدہ کر دیا ہے تو نئی اور انوکھی بات کون سی ہے جس دن سے کہ تم احمدی ہوئے تو تمہاری قوم تو احمدیت ہو گئی شناخت اور امتیاز کے لئے اگر کوئی پوچھے تو اپنی ذات یا قوم بتا سکتے ہو ورنہ اب تو تمہاری قوم تمہاری گوت ، تمہاری ذات احمدی ہی ہے پھر احمدیوں کو چھوڑ کر غیر احمدیوں میں کیوں قوم تلاش کرتے ہو۔“۔۔۔(ملائكة الله صفحه 47-46) ملائكة الله “ میں ” کیا مسیح ناصری “ کے الفاظ سے لے کر ”انوکھی بات کون سی ہے“ تک والی تحریر موجود ہی نہیں ہے اور اس کے بعد کے الفاظ واضح ہیں "ملائكة الله " صفحہ نمبر 47-46- شائع کردہ الشركة الاسلامیہ۔انوارالعلوم جلد 5 ص441) ہر صاحب ضمیر اس بات سے اتفاق کرے گا کہ یہ ایک شرمناک حرکت تھی کہ اس طرح کے جعلی حوالے بنا کر پیش کئے جائیں۔اٹارنی جنرل صاحب نے ایک سوال یہ اٹھایا کہ