دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 246
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 246 پر حضور نے درستگی فرمائی کہ وہ مُؤتمر عالم اسلامی کی نہیں بلکہ رابطہ عالم اسلامی کی بات کر رہے ہیں۔اس سے پہلے وہ وہ اس بات پر زور دے رہے تھے کہ احمدیوں نے خود اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے علیحدہ کیا ہے۔جب رابطہ کی قرارداد کی بات شروع ہوئی تو حضور نے انہیں یاد دلایا کہ اس قرارداد میں تو یہ لکھا ہے کہ قادیانی سارے مسلمانوں والے کام کرتے ہیں اور ساتھ یہ کہا گیا کہ اندر سے کافر ہیں اور حدیث کے حوالے سے فرمایا کہ دنیا کی کون سی طاقت ہے جو دل چیر دیکھے اور فیصلہ کرے۔اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل نے زچ ہو کر کہا کہ ” میں Reasoning میں نہیں جا رہا۔اس پر حضور نے فرمایا:۔Well اگر reasoning میں نہیں جا رہے تو میں بغیر reasoning کے بات نہیں کرتا۔“ اب کون سا ہوشمند ہو گا جو کہ یہ کہے گا کہ جب اس قسم کی کارروائی جاری ہو تو Reasoning میں نہیں جانا چاہئے۔ظاہر ہے جماعت احمدیہ پر اعتراضات کئے جا رہے تھے اور مختلف علمی بحثیں اُٹھانے کی کوشش کی جا رہی تھی ، یہ بات تو Reasoning کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔اگر اٹارنی جنرل صاحب اور ممبران اسمبلی Reasoning میں نہیں جانا چاہتے تھے تو پھر یہ کارروائی نہیں محض ڈرامہ کیا جا رہا تھا۔اس پر حضور نے فرمایا:۔” اور وہ جو ہیں فتوے ، ان کے متعلق ہیں، شیعہ کے متعلق، اور جو حرمین شریف کے فتاوی محمد بن عبد الوہاب اور ان کے متبعین کے خلاف، بارہ سال انہوں نے حج نہیں کرنے دیا وہابیوں کو۔ساری اپنی تاریخ بھول جائیں گے ہم ؟ اب جلدی میں ایک فیصلہ کرنے کے لئے تاریخ کے اوراق بھول جائیں گے ہم۔“