دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 240
240 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری بجائے بدل کر الفاظ پڑھے جا رہے تھے۔اس کے باوجود وہ غلط حوالہ پیش کر کے غیر متعلقہ سوالات کا بے ربط اور طویل سلسلہ شروع کر دیتے۔جب کارروائی شروع ہوئی تھی تو سپیکر صاحب نے اسی وقت کہا تھا کہ کتب اٹارنی جنرل صاحب کے قریب کر دی جائیں تاکہ وہ حوالہ اٹارنی جنرل صاحب گواہوں کو یعنی جماعت احمدیہ کے وفد کے اراکین کو دکھا سکیں۔لیکن یہاں یہ ہو رہا تھا کہ اٹارنی جنرل صاحب ایک حوالہ بھی دکھانے کی زحمت نہیں کر رہے تھے۔اس مرحلہ پر شام کی کارروائی میں وقفہ کا اعلان ہوا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب سپیکر صاحبزادہ فاروق صاحب بھی بیٹی بختیار صاحب اور ان کی ٹیم کی تیاری کے اس عالم سے تنگ آچکے تھے۔جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " جماعت کے وفد کے ہمراہ ہال سے تشریف لے گئے تو سپیکر صاحب نے کہا The honourable members may keep sitting پھر انہوں نے ان کتب کو قرینے سے لگانے کے متعلق ہدایات دیں جن کے حوالے پیش کیے جا رہے تھے اور لائبریرین کو اس کے قریب کرسیاں رکھنے کی ہدایت دی اور حوالہ جات میں نشانیاں رکھنے کی ہدایت دی اور کہا کہ جن لوگوں نے مخصوص حوالہ جات دیئے ہیں باقاعدہ کتابوں میں نشان لگا کر رکھیں اور اگر گواہ کسی چیز سے انکار کریں تو کتاب فوراً پیش کی جائے اور پھر ان الفاظ میں سپیکر صاحب نے اظہار برہمی کیا۔” یہ طریقہ کار بالکل غلط ہے کہ ایک حوالہ کو تلاش کرنے میں آدھا گھنٹہ لگتا ہے۔میں کل سے کہہ رہا ہوں کہ کتابیں اس طرح رکھیں یعنی چار پانچ کرسیاں ساتھ رکھ دیں۔جن ممبر صاحبان نے حوالہ جات تلاش کرنے ہیں ان کرسیوں پر بیٹھ کر تلاش کر سکتے ہیں اور وہ حضرات جنہوں نے حوالہ جات دینے ہیں ادھر آکر بیٹھیں لہذا وہ کتابیں Ready ہونی چاہئیں تا کہ اٹارنی جنرل کو کوئی تکلیف نہ ہو اور ٹائم ضائع نہ ہو۔“