دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 239
239 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری رسول کے حکم کو نہیں مانتا وہ بموجب نصوص صریحہ قرآن اور حدیث کے خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا اور اس میں شک نہیں کہ جس پر خدا تعالی کے نزدیک اول قسم کفر یا دوسری قسم کفر کی نسبت اتمام حجت ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہو گا اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام حجت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گو شریعت نے (جس کی بنا ظاہر پر ہے اُسکا نام بھی کافر ہی رکھا ہے اور ہم بھی اُس کو باتباع شریعت ) کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة : 287) قابل مواخذہ نہیں ہو گا۔ہاں ہم اس بات کے مجاز نہیں ہیں کہ ہم اُس کی نسبت نجات کا حکم دیں۔اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے ہمیں اس میں دخل نہیں۔“ ”حقیقة الوحی “ صفحہ 180-179 اشاعت 20 اپریل 1907ء) یہاں اس شخص کا ذکر ہے جو کہ خدا تعالیٰ کے ایک مامور کو پہچان لیتا ہے کہ وہ سچا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ رسول اللہ صلی الی یوم نے اس کو ماننے کا حکم فرمایا ہے لیکن پھر بھی وہ تکبر سے دیدہ دانستہ انکار کرتا ہے۔اب ایسے شخص کو کیا خدا اور اس کے رسول کے فرمان کا انکار کرنے والا کہیں گے یا اس کو پکا مومن قرار دیں گے؟ اب ان کے حوالہ جات کی غلطیاں ایک عجیب و غریب صورت حال اختیار کر چکی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کا حوالہ اس کتاب سے دیا جا رہا تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر نہیں فرمائی تھی۔ایسی نامعلوم کتابوں کے حوالے پیش کئے جا رہے تھے جن کے متعلق خود انہیں معلوم نہیں تھا کہ لکھی کس نے تھی۔حضرت مسیح موعود کی کتب کے حوالہ جات بمعہ صفحہ نمبر پیش کئے گئے تو نہ صرف ان صفحات پر یہ عبارت موجود نہیں تھی بلکہ وہاں پر کسی اور موضوع کا ذکر ہو رہا تھا۔یا پھر صحیح الفاظ پڑھنے کی