دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 237
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 237 سوال اُٹھائے تھے۔اس سے سوالات کرنے والوں کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک کتاب کا ہی نام لیا جا رہا ہے کہ اس کو پڑھ کر سوال کئے گئے تھے اور اس کا جو ایک ہی حوالہ پڑھا گیا وہ بھی غلط نکلا۔۔پھر اس کے بعد یہ دلیل لائے کہ حقیقۃ الوحی کے صفحہ 185 پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے کہ کفر کی دو قسمیں ہیں ایک آنحضرت سے انکار، دوسرے مسیح موعود سے انکار۔دونوں کا نتیجہ و ماحصل ایک ہے۔" یہاں پر اٹارنی جنرل صاحب صحیح الفاظ پڑھنے کی بجائے کوئی اور الفاظ پڑھ رہے تھے اور یہ دیانتدارانہ طریق نہیں تھا۔وہ نہ صرف عبارت صحیح نہیں پڑھ رہے تھے بلکہ نامکمل پڑھ رہے تھے۔جب اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ کیا یہ درست ہے کہ مرزا غلام احمد نے اپنی کسی تحریر میں یہ کہا ہے کہ کفر کی دو قسمیں ہیں ایک آنحضرت کا انکار اور دوسرے مسیح موعود کا انکار۔دونوں کا نتیجہ و ماحصل ایک ہے۔چونکہ اٹارنی جنرل صاحب معین الفاظ نہیں پڑھ رہے تھے اور عبارت مکمل بھی نہیں پڑھ رہے تھے اس لئے حضرت خليفة ا المسیح الثالث نے فرمایا کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا۔“ اس پر انہوں نے حوالہ پڑھا حقیقة الوحی صفحہ حضور نے فرمایا ”جو الفاظ اصل تھے چھوڑ گئے۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ کسی کتاب میں نہیں لکھا۔“اس پر اٹارنی جنرل صاحب بس اتنا ہی کہہ سکے ”وہ تو verify کر لیں گے۔“ اور پھر یہ عجیب و غریب جملہ ادا فرمایا، ” پوزیشن clarify کرنی ہے۔یہ پڑھیں یا وہ پڑھیں۔“ 185۔اس پر اب پڑھنے والے دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کوئی معقول جواب نہیں تھا۔یہ اعتراض کرنے والے کا کام ہوتا ہے کہ وہ اصل حوالہ اور صحیح عبارت پیش کرے نہ کہ اعتراض کرنے کے بعد حوالہ تلاش کرتا رہے۔یا غلط حوالہ پکڑے جانے پر یہ کہے کہ اس سے فرق کیا پڑتا ہے۔اس طرح تو کوئی معقول گفتگو نہیں ہو سکتی۔