دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 236
236 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری والے نے کہا ہے کہ مرزا صاحب نے یہ کہا ہے اور یہ کتاب جو ہے۔۔۔“ اس کے بعد اور بات شروع ہو گئی اور حضرت خلیفة المسیح نے واضح فرمایا کہ یہ کتاب (جس کے مصنف کا نام بھی بتایا نہیں جا رہا تھا ) ہمارے لیے اتھارٹی نہیں ہو سکتی۔یہ امر قابل توجہ ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں ایک کتاب کے حوالے کو بطور دلیل پیش کر رہے تھے اور انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ کس کی تصنیف ہے اور اس سے یہی ظاہر ہوتا تھا کہ کتاب ان کے پاس نہیں تھی ورنہ اس کو دیکھ کر مصنف کا نام بتا دیتے۔یہ شواہد یہی ظاہر کرتے ہیں کہ اس موقع پر ایک جعلی حوالہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔بیٹی بختیار صاحب بہر حال وکیل تھے۔وہ جانتے تھے کہ اوپر تلے کی غلطیوں نے ان کی پوزیش کمزور کر دی ہے۔اب انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دو کتب کے حوالہ جات پیش کیے تا کہ اپنی طرف سے ایک مضبوط دلیل پیش کی جائے۔چنانچہ انہوں نے کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب تحفہ گولڑویہ کے صفحہ 382 کے حاشیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے ”پھر دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بالکل ترک کرنا پڑے گا۔“ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ تحفہ گولڑویہ کے تو 382 صفحات ہی نہیں ہیں۔نہ معلوم اٹارنی جنرل صاحب نے اس کتاب کے صفحہ نمبر 382 کا حوالہ کیسے دریافت کر لیا۔البتہ اس کتاب کے ایک مقام پر جو اس قسم کا فقرہ آتا ہے وہاں پر یہ بحث ہی نہیں ہو رہی کہ کس کو مسلمان کہلانے کا حق ہے کہ نہیں ، وہاں تو یہ مضمون بیان ہو رہا ہے کہ احمدیوں کا امام احمدیوں میں ہی سے ہونا چاہئے۔انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکذبین کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔، یہاں پر یہ دلچسپ بات قابلِ ذکر ہے کہ جب ہم نے صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب سے انٹرویو کیا تو انہوں نے کہا کہ یحیی بختیار صاحب نے کتابیں پڑھ کر سوال کئے تھے اور اس ضمن میں انہوں نے خاص طور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب تحفہ گولڑویہ کا نام لیا کہ بیٹی بختیار صاحب نے اس کتاب کو پڑھ کر