دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 235 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 235

235 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری (اقبال اور ملا ، مصنفہ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم ، ص 19، ناشر بزم اقبال لاہور) واضح رہے کہ مصنف کوئی احمدی نہیں تھا بلکہ کتاب کا سرسری مطالعہ ہی یہ واضح کر دیتا ہے کہ مصنف جماعت احمدیہ کے عقائد سے شدید اختلاف رکھتا تھا لیکن ملا کے عزائم کوئی ایسے ڈھکے چھپے نہیں تھے کہ ملک کے پڑھے لکھے لوگوں کو اس کی خبر ہی نہ ہو۔جس طرح اب وطن عزیز میں مسلمانوں کو واجب القتل قرار دے کر خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے اور جس طرح تنگ نظر طبقہ ہر ذریعہ استعمال کر کے ملک کے کسی نہ کسی پر اپنا تسلط جمانا چاہ رہا ہے اس سے یہ صاف ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ خیالات محض وہم نہیں تھے۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے کہا ”مرزا غلام احمد نے آئینہ صداقت میں۔یہ ان کی تصنیف ہے ؟“ اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تصنیف کا نام آئینہ صداقت نہیں ہے تو پھر یحیی بختیار صاحب نے کچھ بے یقینی کے عالم میں کہا کہ پھر مرزا بشیر الدین کی ہوگی۔یہ عجیب غیر ذمہ داری ہے کہ آپ خود ایک کتاب کا حوالہ پیش کر رہے ہیں اور اس کے مصنف کا نام تک آپ کو معلوم نہیں اور کبھی ایک نام لیتے ہیں اور کبھی دوسرا نام لیتے ہیں اور یقین سے کہہ نہیں سکتے کہ کس کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔اس طرح سے تو کوئی سنجیدہ کارروائی یا بحث نہیں ہو سکتی اور نہ اس قسم کے انداز کو کوئی قابلِ توجه سمجھ سکتا ہے۔پھر انہوں نے کسی کتاب صبح مصلیٰ کا حوالہ پڑھنے کی کوشش کی جس کا انہیں خود علم نہیں تھا کہ کس کی لکھی ہوئی ہے اور یقینا کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء یا سلسلہ کے کسی جانے پہچانے مصنف کی تحریر کردہ کتب میں اس نام کی کوئی کتاب نہیں۔جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے دریافت فرمایا کہ یہ کس کی لکھی ہوئی ہے تو اٹارنی جنرل صاحب نے اس کے جواب میں بجائے مصنف کا نام بتانے کے، کہا ”سوال کرنے