دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 228
228 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری بریلوی، اہلحدیث، شیعہ وغیرہ کثیر تعداد میں ایک دوسرے پر کفر کے فتاویٰ لگاتے رہے ہیں اور اس بات کو حرام قرار دیتے رہے ہیں کہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھی جائے یا دوسرے مسلک سے وابستہ افراد سے شادی کی جائے۔حتیٰ کہ ایک دوسرے سے میل جول کو بھی حرام قرار دیا گیا تھا۔مفتی محمود صاحب نے ان دو وو الفاظ میں اپنی پریشانی کا اظہار کیا ” اس کے بعد انہوں نے مختلف عبارتیں پڑھیں اور مسلمانوں کے فرقوں کے درمیان میں جو تکفیر کا مسئلہ تھا وہ ساری عبارتیں پڑھتا گیا۔وہ بالکل سوال سے متعلق بات نہیں تھی تو وہ جو سوال سے بالکل غیر متعلق بات کہے روکنا چاہیے۔۔۔“ ایک اور مولانا غلام غوث ہزاروی صاحب نے کہا علماء دیوبند پر جھوٹے الزامات لگے" 66 حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت یہ بحث ہو رہی تھی کہ اُمت مسلمہ کی تاریخ میں کفر کا لفظ یا دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے الفاظ کن کن معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔اور اس کی مثالیں سپیشل کمیٹی کے سامنے رکھی گئی تھیں۔یہ غیر متعلقہ کس طرح ہو گئیں۔اور غلام غوث ہزاروی صاحب کیا کہہ رہے تھے؟ یہ کفر کے فتاوی علماء نے نہیں دیئے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ فتاویٰ محضر نامہ میں بھی شامل تھے اور ان کے ساتھ مکمل حوالے بھی دے دیئے گئے تھے۔اگر کوئی حوالہ غلط تھا تو ممبران جو جج بن کر بیٹھے تھے یہ سوال اُٹھا سکتے تھے لیکن کس طرح اُٹھاتے اس طرح کے فتوے دینا تو علماء کا معمول تھا۔آج تک یہ سارے حضرات مل کر یہ ثابت نہیں کر سکے کہ اس وقت جو کفر کے فتاویٰ پڑھے گئے تھے ان میں سے کوئی ایک بھی غلط تھا اور نہ ہی محضر نامہ میں درج کفر کے فتاویٰ کے بارے میں کبھی کوئی ثبوت دیا گیا کہ یہ صحیح نہیں تھے ،اگر آج بھی کسی کو شک ہے تو ان کے حوالے چیک کر کے حقیقت معلوم کر سکتا ہے۔