دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 180
180 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس کے بعد کفر کی تعریف پر سوالات اور جوابات کا ایک طویل سلسلہ چلا۔چونکہ اس قسم کے سوالات دورانِ کارروائی بار بار پیش کئے گئے تھے، اس لئے ہم ان کا جائزہ ایک ساتھ پیش کر دیں گے۔معلوم ہوتا ہے کہ ممبرانِ اسمبلی خاص طور پر جماعت کے مخالفین کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔بحث ان کی امیدوں کے بر عکس جا رہی تھی۔وہ غالباً اس امید میں مبتلا تھے کہ جماعت کا وفد خدانخواستہ ایک ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہو گا اور ان کے ہر نامعقول تبصرہ کو تسلیم کرے گا اور اس پس منظر میں جب کہ ملک میں احمدیوں کے خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی، جماعت کا وفد ان سے رحم کے لیے درخواست کرے گا۔مگر ایسا نہیں ہو رہا تھا۔اٹارنی جنرل صاحب ممبرانِ اسمبلی کے دیئے ہوئے جو سوالات کر رہے تھے وہ نہ صرف غیر متعلقہ تھے بلکہ جب بحث آگے بڑھتی تھی تو ان سوالات کا سقم خود ہی ظاہر ہوجاتا تھا۔جب 5/ اگست کی کارروائی ختم ہوئی اور حضرت خلیفة المسیح الثالث "جماعتی وفد کے دیگر اراکین کے ہمراہ جب ہال سے تشریف لے گئے تو ممبرانِ اسمبلی کا غیظ و غضب دیکھنے والا تھا۔اس وقت ان کے بغض کا لاوا پھٹ پڑا۔ایک ممبر میاں عطاء اللہ صاحب نے بات شروع کی اور کہا I have another point some of the witnesses who were here, for instances, Mirza Tahir, they were unnecessarily۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس جملہ کی اٹھان سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے متعلق کچھ زہر اگلنا چاہتے ہیں لیکن ان کا تبصرہ سپیکر کے Just a minute کہنے سے ادھورا ہی رہ گیا۔اس کے فوراً بعد شاہ احمد نورانی صاحب نے جھٹ اعتراض کیا