دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 168
168 Preamble is not enforceable۔۔۔۔۔۔دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری یعنی Preamble آئین کا وہ حصہ ہے جس کی تعمیل ضروری نہیں۔اگر ان کے نزدیک ایسا ہی تھا تو پھر اس Preamble کو بنیاد بنا کر یہ بحث اُٹھانے کی کیا ضرورت تھی کہ ریاست کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ مذہبی معاملات میں مداخلت کرے۔پھر انہوں نے آئین کے کچھ حصوں کو بنیاد بنا کر کچھ فرضی مثالیں پیش کر کے حضور سے دریافت کیا کہ۔کیا اس صورت میں ریاست کے لئے ضروری نہیں ہو گا کہ وہ کسی شخص کے مذہب کے بارے میں فیصلہ کرے۔مثلاً ایک شخص غیر مسلم ہے لیکن وہ صدر یا وزیر اعظم کے انتخاب میں حصہ لینے کے لئے کاغذات جمع کرا دیتا ہے مگر فرضی مثالوں پر بنیاد بنا کر کوئی معنی خیز گفتگو آگے نہیں بڑھ سکتی۔جب حضور نے دریافت فرمایا کہ اس وقت کیا قانون ہے یہ فیصلہ کون کرے گا کہ یہ شخص مسلمان ہے کہ نہیں؟ تو پہلے اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کرے گا۔پھر جب حضور نے دریافت فرمایا کہ کیا وہ اس مفروضے پر کاغذات مسترد کر سکتا ہے؟ تو اٹارنی جنرل صاحب نے خود کہا کہ نہیں ! فرض کریں کہ وہ نہیں کر سکتا لیکن اس پر اعتراض ہوتا ہے اور اسی گفتگو کے دوران اپنی مثال کو تبدیل کر کے کہا کہ یہ فرضی شخص جو صدر یا وزیر اعظم بننے کے لئے کاغذات جمع کراتا ہے وہ اسلام کے بنیادی اراکین میں سے کسی ایک مثلاً زکوۃ کا انکار کر دیتا ہے پھر کیا ہو گا۔پھر کہا کہ فرض کریں کہ ایک عیسائی مسلمان ہونے کا اقرار نامہ جمع کرا کے ان انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کرتا ہے تو کیا ہو گا۔ان کی مثالیں صرف فرضی ہی نہیں بلکہ کئی پہلووں سے افسانوی بھی تھیں۔یہ حصہ پڑھتے ہوئے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر فرضی مثال ہی پیش کرنا مقصد تھا تو وہ واضح ذہن کے ساتھ ایک معین مثال