دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 160 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 160

160 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ہے کہ آج سے وہ قانون کی نظر میں مسلمان نہیں ہوں گے۔دونوں مثالوں میں کوئی قدرِ مشترک نہیں۔بہر حال کارروائی میں ہونے والے سوالات زیر بحث موضوع کے قریب بھی نہیں آئے تھے کہ کارروائی مختصر وقفہ کیلئے رکی۔لیکن یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن تھا جب خود اٹارنی جنرل نے تمام ممبران اسمبلی کے سامنے برملا بڑے فخر سے یہ کہا تھا کہ پارلیمنٹ بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دینے والی شقوں کو منسوخ کر سکتی ہے اور اس طرح بنیادی انسانی حقوق تلف کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔حالانکہ آئین اعلان کر رہا ہے کہ سٹیٹ کو، حکومت کو پارلیمنٹ کو ہر گز یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ان حقوق میں کمی بھی کر سکے۔اسلام یہ سکھاتا ہے کہ کسی کو بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن اس اسمبلی کی اخلاقی حالت یہ تھی کہ کسی ایک ممبر نے بھی کھڑے ہو کر یہ نہیں کہا کہ آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔یہ تو ہمارے آئین ، ہماری اخلاقی قدروں اور ہمارے مذہب کی بنیاد ہے کہ کسی کو بھی ظالمانہ طریق سے بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے کی ہر اجازت نہیں ہے اور آپ یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ہمیں یہ اختیار ہے اس شق کو ہی ختم کر دیں جو بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دے رہی ہے۔یہی ایک پہلو اس بات کو واضح کر دیتا کہ یہ اسمبلی جو فیصلہ کرنے کا تہیہ کئے بیٹھی تھی اس کا پہلا قدم ہی یہ تھا کہ بنیادی انسانی حقوق کو سلب کیا جائے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے یہ ممبران اسمبلی سب سے پہلے اپنے بنائے ہوئے آئین کو پامال کر رہے تھے۔اب ہم ایک اور پہلو سے اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا کسی پارلیمنٹ / اسمبلی کو کوئی ایسا قانون بنانے یا آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے جو وہ کسی شخص یا گروہ کے مذہب کا فیصلہ کر سکے۔اس کا جواب یقینا نہیں میں ہے۔انسانی حقوق کی تمام دستاویزات سوچ اور مذہب کی آزادی کا خاص طور پر تحفظ کرتی ہیں۔اقوام متحدہ کے "Universal Declaration of Human Rights" کے آرٹیکل نمبر 18 کے مطابق ہر انسان کو عمل