دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 159 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 159

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 159 1) 1974ء میں اس وقت ایسا کوئی قانون موجود نہیں تھا جس سے احمدیوں پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہہ سکتے، یا اس کا اظہار نہیں کر سکتے یا کسی قسم کے شعائر اسلامی نہیں بجا لا سکتے، یا اپنے عقائد کی تبلیغ نہیں کر سکتے۔آئین اور قانون اس قسم کی کوئی قدغن نہیں لگا رہے تھے۔2۔آئین کے آرٹیکل 8 میں اس بات پر پابندی تھی کہ اس قسم کی کوئی قدغن لگانے کا کوئی قانون بنایا جائے اور ایسی ممکنہ قانون سازی کو کالعدم قرار دیا گیا تھا۔اس سے یہی نتیجہ نکل سکتا ہے کہ اس وقت پارلیمنٹ آئین میں مقرر کردہ حدود سے تجاوز کر رہی تھی اور آئین کی رو سے انہیں اس قسم کی کسی آئینی ترمیم کا کوئی اختیار نہیں تھا۔حضرت خلیفة المسیح الثالث " نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ جو شخص یہ کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں اس کو ہمیں مسلمان کہنا پڑے گا۔اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ ان کے ذہن میں اس بارے میں کچھ پیچیدگیاں ہیں۔وہ یہ بحث لے بیٹھے کہ آپ نے کہا ہے کہ قانون کی رو سے ہر فرد اور فرقہ کا مذہب وہی ہونا چاہئے جس کی طرف وہ اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے۔اس پر یکی بختیار صاحب یہ دور کی کوڑی لائے کہ اگر ایک مسلمان طالب علم ڈاؤ میڈیکل کالج میں اقلیتوں کی سیٹ پر داخلے کے لیے اپنے آپ کو ہندو ظاہر کرتا ہے تو کیا اسے قبول کرنا چاہئے۔اٹارنی جنرل صاحب یہاں بھی ایک غیر متعلقہ موازنہ پیش کر رہے تھے۔یہ مثال ہے کہ ایک طالب علم اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے لیکن داخلہ کے لیے جعلی اندراج کرتا ہے تا کہ اس جھوٹ سے ناجائز فائدہ اُٹھا سکے اور دوسری طرف ایک فرقہ ہے جو نوے سال سے دنیا کے بیسیوں ممالک میں اپنے آپ کو مسلمان کہتا رہا ہے اور ان کے عقائد اچھی طرح سے مشتہر ہیں کہ وہ ہمیشہ سے اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں مسلمان کہتے ہیں مسلمان لکھتے ہیں اور اچانک ایک ملک کی اسمبلی زبر دستی ان کی مرضی کے خلاف یہ فیصلہ کرتی