دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 157 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 157

157 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اختیار رکھتی ہے پھر اس موقف کا معیار اور بھی گر گیا اور انہوں نے یہ کہا کہ پارلیمنٹ آرٹیکل 8کو جس میں یہ پابندی لگائی گئی ہے مکمل طور پر ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی کہتے جا رہے ہیں کہ ان کے نزدیک پارلیمنٹ کو ایسا نہیں کرنا چاہئیے۔سیدھی سی بات ہے آئین کی رو سے پارلیمنٹ کو یہ اختیار حاصل ہی نہیں اور یہ بات کہتے ہوئے اٹارنی جنرل صاحب کیا خوفناک راستہ کھول رہے تھے؟ وہ یہ راستہ کھول رہے تھے کہ دنیا کی کوئی بھی پارلیمنٹ بنیادی انسانی حقوق میں سے کچھ یا تمام حقوق کو سلب کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔جب ایک سے زیادہ مرتبہ ان کی توجہ آرٹیکل 8 میں پارلیمنٹ پر لگائی گئی پابندی کی طرف مبذول کرائی گئی تو اٹارنی جنرل جناب يحجي بختیار صاحب کو اور کچھ نہیں سو جبھی تو اس کا یہ جواب دیا Those are of political nature, religious nature but not of constitutional nature۔یعنی آئین میں پارلیمنٹ پر لگائی گئی یہ پابندی سیاسی اور مذہبی نوعیت کی ہے مگر آئینی نوعیت کی نہیں ہے۔یہ جواب مہمل اور غلط ہونے کے علاوہ مضحکہ خیز بھی تھا۔یعنی آئین میں واضح طور پر یہ لکھا ہے اس باب میں لکھے ہوئے انسانی حقوق کو مکمل تحفظ حاصل ہے اور پارلیمنٹ یا کسی اور ادارہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی قانون سازی کے ذریعہ ان میں کوئی کمی بھی کر سکے۔اور اٹارنی جنرل صاحب یہ فرما رہے ہیں کہ یہ تو محض سیاسی اور مذہبی قسم کی پابندی ہے آئینی پابندی نہیں ہے۔خدا جانے ان کے ذہن میں آئینی پابندی کا کیا تصور تھا۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے اس موضوع کے بارے میں ایک اور نکتہ بیان کیا۔انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے ایک خطبہ جمعہ کا حوالہ سنایا جس میں حضور نے آئین کے آرٹیکل 20 کا حوالہ دیا