دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 156
156 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری (1) Any law, or any custom or usage having the force of law, in so far as it is inconsistent with the rights conferred by this Chapter, shall, to the extent of such inconsistency, be void۔(2) The State shall not make any law which takes away or abridges the rights so conferred and any law made in contravention of this clause shall, to the extent of such contravention, be void۔آئین کی اس شق کا مطلب واضح ہے کہ سٹیٹ کو یہ اختیار نہیں ہو گا کہ آئین پاکستان کے Chapter 1 میں مذکور انسانی حقوق سے متصادم کوئی قانون سازی کرے اور اس سے متصادم اگر قانون سازی کی جائے گی تو وہ کالعدم ہوگی اور اس آئین میں اس شق سے چند سطریں پہلے آرٹیکل 7 میں سٹیٹ کی تعریف بھی درج ہے اور اس تعریف کی رو سے پارلیمنٹ بھی سٹیٹ کا حصہ ہے اور اس طرح یہ پابندی پارلیمنٹ پر بھی عائد ہوتی ہے اور آئین کا آرٹیکل 20 یہ اعلان کر رہا تھا کہ ہر شخص کو اپنا مذہب profess کرنے practice کرنے اور propagate کرنے کی اجازت ہو گی۔اب ملاحظہ کیجئے کہ اٹارنی جنرل صاحب نے اس دلیل کا کیا رد پیش کیا۔انہوں نے فرمایا کہ لیکن پارلیمنٹ کو یہ اختیار ہے کہ وہ وہ دو تہائی کی اکثریت سے آئین کے آرٹیکل 8 اور آرٹیکل 20 میں ترمیم کر دے۔اول تو معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ وہ کیا بات کہہ گئے ہیں۔آئین تو واضح طور پر یہ کہہ رہا ہے کہ پارلیمنٹ 1 Chapter میں مذکور انسانی حقوق سے متصادم کوئی قانون نہیں بنا سکتی اور ایسا قانون کالعدم ہو گا اور اٹارنی جنرل صاحب اس کا حل کیا تجویز فرما رہے ہیں؟ پہلے انہوں نے یہ کہا کہ پارلیمنٹ ان شقوں میں ترمیم کا