دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 155
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 155 وہ اگر مطلوبہ تعداد میں اراکین اس کے حق میں رائے دیں تو ملک کے آئین میں تبدیلی کر سکتے ہیں۔لیکن آئین کی ہر شق اور ہونے والی ہر ترمیم کو بعض مسلمہ بنیادی انسانی حقوق کے متصادم نہیں ہونا چاہئے خاص طور پر اگر اسی آئین میں ان حقوق کی ضمانت دی گئی ہو۔مثلاً جس زمانہ میں جنوبی افریقہ کے آئین میں مقامی باشندوں کو ان کے حقوق نہیں دیئے گئے تو آخر کار پوری دنیا نے ان کا بائیکاٹ کر دیا تھا اور عذر قابل قبول نہیں سمجھا جاتا تھا کہ ان کے آئین میں ایسا ہی لکھا ہوا تھا اور اگر کسی ملک کی پارلیمنٹ ایسی کوئی آئینی ترمیم کر بھی دے جو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہو تو اسے قبول نہیں کیا جاتا بلکہ بسا اوقات تو عدالت ہی اسے ختم کر دیتی ہے اور اندرونی دباؤ کے علاوہ پوری دنیا کی طرف سے ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ اس کو ختم کریں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " نے اس سوال کے جواب کے شروع میں ہی ان الفاظ میں یہ موقف واضح فرما وو دیا تھا۔یہ پارلیمنٹ ہماری جو ہے ، یہ نیشنل اسمبلی یہ سپریم لیجسلیٹو باڈی ہے اور اس کے اوپر کوئی پابندی نہیں ، سوائے ان پابندیوں کے جو یہ خود اپنے اوپر عائد کرے۔“ اور اس سے پہلے یہ بھی واضح فرما دیا تھا کہ پاکستان کا جو آئین ہے اس کی دفعہ 9 یہ کہتی ہے کہ اس ہاؤس کو یہ اختیار نہیں ہو گا جو حقوق اس نے دیئے ہیں ان میں کمی کی جائے یا ان کو منسوخ کیا جائے۔اب یہاں صورت حال یہ تھی خود اس اسمبلی کا بنایا ہوا آئین یہ اعلان کر رہا تھا کہ انہیں اس قسم کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہی نہیں تھا۔آئین کا آرٹیکل 8، جس کا حوالہ حضور دے رہے تھے، اس کے الفاظ یہ ہیں:۔6 Laws inconsistent with or in derogation of fundamental rights to be void۔