دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 154 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 154

154 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اس کے بعد وہ اس تفصیلی بحث میں الجھ گئے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں احمدیوں کی تعداد کیا تھی؟ اور اب یہ تعداد کتنی ہے؟ انہوں نے دریافت کیا کہ 1921ء میں ہندوستان میں احمدیوں کی تعداد کیا تھی 19361ء میں یہ تعداد کتنی ہو گئی تھی؟ اور اب پاکستان میں احمدیوں کی تعداد کتنی ہے ۱۴انگریز حکومت کی مردم شماری کے مطابق یہ تعداد کتنی تھی ؟ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر کے مطابق یہ تعداد کتنی تھی ؟ اور دونوں میں فرق کیوں ہے ؟ یہ کارروائی پڑھتے ہوئے کچھ سمجھ نہیں آتی کہ صاحب موصوف یا ان کو سوال دینے والے کیا بحث لے بیٹھے تھے۔ان کی یہ بحث اس لیے بھی زیادہ نامعقول معلوم ہو رہی تھی کہ شروع میں ہی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " نے فرما دیا تھا کہ ہمارے پاس بیعت کنندگان کا کوئی صحیح ریکارڈ موجود نہیں ہے۔اور مذکورہ معاملہ کا احمدیوں کی تعداد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔اگر پاکستان میں صرف پانچ یا چھ احمدی تھے اور ان کا عقیدہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تھا تو ان کی تعداد کی بنا پر ان کو غیر مسلم نہیں قرار دیا جا۔اگر بالفرض پاکستان میں چھ سات کروڑ احمدی بھی تھے مگر ان کا عقیدہ غلط تھا تو اپنی زیادہ تعداد کی بنا پر وہ راسخ العقیدہ نہیں بن سکتے تھے۔اور نہ ہی ان کی تعداد سے ان کے مذہبی اظہار کے بنیادی حق پر کوئی فرق پڑتا تھا۔سکتا اس کے بعد کارروائی آگے بڑھی تو اس کے پڑھنے سے یہی تاثر ملتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کا وقفہ سے کچھ دیر قبل یہ تاثر ابھرنا شروع ہوا کہ شاید اب زیر بحث معاملہ کے متعلق سوالات شروع ہوں۔انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " کے خطبہ جمعہ کا حوالہ دیا جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے آئین کے آرٹیکل 8 اور 20 میں مذہبی آزادی کی ضمانت کا حوالہ دیا تھا۔اور یہ سوال اٹھایا کہ اگر پارلیمنٹ چاہے تو دو تہائی کی اکثریت سے ان شقوں کو تبدیل کر سکتی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے۔کچھ سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا نتیجہ نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ہر ملک کے آئین میں پارلیمنٹ کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ