دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 147 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 147

147 تھی دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری اور نہ ہی صدر صدر انجمن احمد یہ اس وفد کی قیادت کر رہے تھے۔اس وفد کی قیادت تو حکومت کے اصرار کی وجہ سے حضرت خلیفة المسیح الثالث فرما رہے تھے۔چنانچہ اس بات کو واضح کرنے کے لئے ایڈیشنل ناظر اعلیٰ صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نے نیشنل اسمبلی کے سیکریٹری کو لکھا کہ اس وفد کی قیادت صدر انجمن احمدیہ کے سربراہ نہیں کر رہے بلکہ حضرت امام جماعت احمدیہ کر رہے ہیں۔صدر انجمن احمدیہ کے سربراہ تو اس کے در کہلاتے ہیں۔اب یہ ایک اہم قانونی غلطی تھی جس کو دور کر دیا گیا تھا لیکن آفرین ہے قومی اسمبلی کی ذہانت پر کہ اس کا بھی ایک غلط مطلب سمجھ کر دورانِ کارروائی اس پر اعتراض کر دیا۔وہ اعتراض بھی کیا خوب اعتراض تھا ، ہم اس کا جائزہ بعد میں لیں گے۔قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں محضر نامہ پڑھے جانے کے بعد 24/ جولائی کو ایڈیشنل ناظر اعلیٰ صدا انجمن احمد یہ صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نے قومی اسمبلی کے سیکریٹری صاحب کے نام لکھا کہ قومی اسمبلی میں اس وقت دو موشن پیش کئے گئے ہیں جن میں سے ایک شاہ احمد نورانی صاحب کی طرف سے اور دوسری وزیر قانون عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔اگر اس مرحلہ پر کوئی اور موشن بھی ایوان کے سامنے پیش ہوئی ہے جس میں کچھ نئے نکات ہوں تو اس کے متعلق بھی ہمیں مطلع کر دیا جائے تاکہ ہم ان کے متعلق بھی اپنا نقطہ نظر پیش کر سکیں۔اس کے جواب میں 25 / جولائی کو قومی اسمبلی کے سیکریٹری صاحب نے لکھا کہ قومی اسمبلی کی سٹیرنگ کمیٹی نے آپ کے اس خط کا جائزہ 25 / جولائی کے اجلاس میں لیا اور یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو ان دوسرےMotions سے ابھی مطلع نہیں کیا جا سکتا اگر بعد میں اس کی ضرورت ہوئی تو آپ کو اس سے مطلع کر دیا جائے گا۔اسمبلی کی خاص کمیٹی میں سوالات کا سلسلہ تو 5/ اگست سے شروع ہونا تھا لیکن اس دوران پورے ملک میں احمدیوں کے خلاف پر تشدد مہم کا سلسلہ جاری تھا اور حکومت اس کو روکنے کے لیے کوئی کوشش نہیں