دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 124
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 124 احمدیہ نے اس لفظ کی یہ Interpretation کیوں کی ہے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ اس لفظ کی اتنی Interpretations ہو چکی ہیں۔ہم نے اس کی یہ Interpretation لی ہے۔اور ہماری Interpretation درست ہے۔صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب کہتے ہیں کہ اس پر مفتی محمود صاحب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔کہتے ہیں کہ اسی روز میں نے بھٹو صاحب کو اپنے چیمبر سے فون کیا اور کہا کہ آپ کے لیڈر آف اپوزیشن کا یہ حال ہے کہ انہیں ایک سوال پر ہی صفر کر دیا گیا ہے۔اس پر بھٹو صاحب نے کہا کہ پھر آپ کیا مشورہ دیتے ہیں۔اس پر میں نے کہا کہ جرح اٹارنی جنرل ہی کرتارہے اور اس کے ساتھ پانچ سات افراد کی کمیٹی اعانت کرے۔ان کی گواہی سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا مولوی حضرات کو بے عزتی سے بچانے کے لئے کیا گیا تھا اور اسی انٹر ویو میں صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب نے ہم سے بیان کیا کہ آدھا گھنٹہ پہلے ہی سوال آجاتے تھے تو بسا اوقات بیچی بختیار صاحب سوال پڑھ کر اس کی نامعقولیت پر غصہ میں آجاتے اور کہتے یہ کس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(آگے ایک گالی ہے) نے بھیجا ہے اور اسے پھاڑ دیتے۔یادر ہے کہ یہ روایت بیان کرنے والے صاحب اسمبلی کے سپیکر تھے اور اس سپیشل کمیٹی کی صدارت کر رہے تھے۔