دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 123 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 123

123 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ان کے اس بیان سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس وقت احمدیوں کے جذبات کا اس قدر خیال رکھ رہی تھی کہ انہیں اس بات کی بھی بہت پر واہ تھی کہ کہیں احمدیوں کی بے عزتی بھی نہ ہو جائے حالانکہ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ احمدیوں کو قتل و غارت کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور حکومت فسادات کو روکنے کی بجائے خود احمدیوں کو موردِ الزام ٹھہرا رہی تھی۔اس بیان کا ستم اس بات سے ہی ظاہر ہو جاتا ہے کہ نیکی بختیار صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ احمد ی اس بات سے پریشان تھے کہ مولوی ان کی بے عزتی کریں گے اور اس صورت حال میں جے اے رحیم صاحب نے یہ تجویز دی کہ اٹارنی جنرل صاحب سوالات کریں مگر یہ بیان دیتے ہوئے بیٹی بختیار صاحب ایک بات چیک کرنا بھول گئے تھے۔جے اے رحیم صاحب کو 3 / جولائی 1974ء کو وزیر اعظم بھٹو صاحب نے بر طرف کر دیا تھا کیونکہ بقول ان کے ، جے اے رحیم صاحب کا طرز عمل پارٹی ڈسپلن کے خلاف تھا ( مشرق 4 / جولائی 1974 ء ص (1) اور ظاہر ہے کہ یہ شدید اختلافات ایک رات پہلے نہیں شروع ہوئے تھے ان کا سلسلہ کافی پہلے سے چل رہا تھا۔قومی اسمبلی کی کارروائی اس سے بہت بعد شروع ہوئی تھی اور اس کارروائی کے خط و خال تو سٹیرنگ کمیٹی میں طے ہوئے تھے اور اس کا قیام 3 / جولائی کو ہی عمل میں آیا تھا اور یہ فیصلہ کہ حضور جماعت کے وفد کی قیادت فرمائیں گے بھی اس تاریخ کے بعد کا ہے۔بلکہ جے اے رحیم کے استعفیٰ کے وقت تک تو ابھی یہ فیصلہ بھی نہیں ہوا تھا کہ جماعت کا وفد قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں اپنا موقف پیش کرے گا۔چنانچہ جب یہ وقت آیا تو جے اے رحیم صاحب اس پوزیشن میں تھے ہی نہیں کہ کسی طرح اس قسم کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے۔لیکن بہر حال جب ہم نے اس وقت قومی اسمبلی کے سپیکر مکرم صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب سے انٹر ویو لیا تو انہوں نے اس کے بارے میں ایک بالکل مختلف واقعہ بتایا۔گو یہ فیصلہ پہلے ہو چکا تھا کہ سوالات اٹارنی جنرل صاحب کی وساطت سے کئے جائیں گے لیکن ایک اور واقعہ ہو ا جس کے بعد حکومت نے اس بات کا مصمم ارادہ کر لیا کہ اگر مولوی حضرات کو براہ راست سوالات کرنے کا زیادہ موقع نہ ہی دیا جائے تو بہتر ہو گا۔صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب نے ہمارے ساتھ اپنے انٹرویو میں کہا کہ مفتی محمود صاحب جو کہ اس وقت لیڈر آف اپوزیشن تھے ، نے ایک سوال پوچھا کہ آپ نے یعنی جماعتِ