دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 102
102 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری پورے ملک میں احمدیوں پر جو مظالم ہو رہے تھے ان پر وہ کھل کر کچھ نہیں کہہ رہے تھے۔آج ملک کے سب سے بالا منتخب اداروں میں بھی کوئی احمدیوں پر ہونے والے مظالم پر ایک لفظ کہنے کو تیار نہیں تھا کیونکہ یہ سب سمجھ رہے تھے کہ یہ تو ایک لاچار اور کمزور سا گروہ ہے اس کے متعلق آواز بلند کر کے ہم اپنا سیاسی مستقبل کیوں خطرہ میں ڈالیں۔لیکن ملک کی تاریخ کے سب سے مضبوط وزیر اعظم کو اندازہ نہیں تھا کہ آج کی بحث میں ان کے منہ سے ایک ایسا جملہ نکل گیا ہے جو کچھ برس بعد ان کے خلاف قتل کے مقدمہ میں دلیل کے طور پر پیش کیا جائے گا۔بھٹو صاحب نے احمد رضا قصوری صاحب کو کہا تھا کہ میں تمہاراNuisance برداشت نہیں کر سکتا۔کچھ سال بعد جب بھٹو صاحب پر یہ مقدمہ چل رہا تھا کہ انہوں نے احمد رضا قصوری صاحب پر قاتلانہ حملہ کرایا، جس میں ان کے والد قتل ہو گئے تو یہی جملہ ان کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کیا گیا کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ وہ اب قصوری صاحب کو برداشت نہیں کر سکتے۔چنانچہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بھٹو صاحب احمد رضا صاحب کو راستہ سے ہٹانا چاہتے تھے۔(16) اگلے روز بھی قومی اسمبلی میں اس موضوع پر مختصر سی گفتگو ہوئی۔اور مفتی محمود صاحب نے سٹیشن والے واقعہ کے متعلق کہا:۔وو۔آج میں نے اخبار میں پڑھا ہے کہ مرزا ناصر کو بھی تحقیقات میں شامل کر لیا گیا ہے۔ہم یہ جانتے ہیں کہ ربوہ میں کوئی واقعہ ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔لہذا اس کو گرفتار کر لیا جائے۔“(17) اس روز قومی اسمبلی میں ربوہ کے سٹیشن پر ہونے والے واقعہ کے بارے میں سات تحاریک التوا پیش کی گئیں اپوزیشن نے کہا کہ وزیر اعظم نے ان حالات کا سارا الزام ہم پر لگا دیا ہے اور ہم جواب دینا چاہتے ہیں۔لیکن سپیکر نے اس دن ان پر بحث کی اجازت نہیں دی۔اس پر اپوزیشن کے اراکین نے واک آؤٹ کیا اور نکلتے ہوئے ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے۔5/ جون کے اخبارات میں یہ خبریں شائع ہونے لگ گئیں کہ حکومت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور اس بارے میں سرکاری فیصلہ کا جلد اعلان کر دیا جائے گا۔(18)