دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 82 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 82

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 82 29 مئی کا واقعہ جب خلیفہ وقت کسی بھی معاملہ میں کوئی ہدایت فرمائیں تو بیعت کرنے والوں کا کام ہے کہ اس ارشاد کو غور سے سن کر اس پر بڑی احتیاط سے عمل کریں۔اگر پوری جماعت میں سے ایک گروہ بھی خواہ وہ گروہ چھوٹا سا گر وہ ہی کیوں نہ ہو اس ہدایت پر عمل پیراہونے پر کوتاہی کا مظاہرہ کرے تو اس کے سنگین نتائج نکلتے ہیں۔حضور اقدس نے 24 / مئی 1974ء کے خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو یہ تلقین فرمائی تھی کہ ہمارا کام غصہ کرنا نہیں بلکہ غصہ کو ضبط کرنا ہے۔اور اس خطبہ میں حضور نے یہ بھی فرمایا کہ مجھے جو فکر رہتی ہے وہ یہ ہے کہ احباب جماعت میں نئے آئے ہوئے بھی ہیں۔ان کو کہیں اپنے مخالف کے خلاف غصہ نہ آجائے۔جہاں ہمیں کوئی تکلیف دے رہا ہو وہاں ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ ہم اس کی کوئی تکلیف کیسے دور کر سکتے ہیں۔(2) اس خطبہ جمعہ سے چند روز قبل 22 / مئی 1974ء کو نشتر میڈیکل کالج کا ایک گروپ چناب ایکسپریس پر ٹرپ پر جاتے ہوئے ربوہ سے گزرا اور ان طلباء نے ربوہ کے پلیٹ فارم پر مرزائیت ٹھاہ کے نعرے لگائے اور پٹری سے پتھر اُٹھا کر پلیٹ فارم پر موجو دلوگوں پر اور قریب والی بال کھیلنے والے لڑکوں پر چلائے (3)۔اس طرح اشتعال دلانے کی کوشش کی گئی لیکن اس وقت کسی تصادم کی نوبت نہیں آئی۔جب بعد میں اس واقعہ پر ٹریبونل قائم کیا گیا تو یہ شواہد سامنے آئے کہ مئی 1974ء میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء نے سیر کے لئے راولپنڈی ، مری اور سوات جانے کا پروگرام بنایا۔پہلے یہی پروگرام تھا کہ کالج کی طالبات اور کچھ اساتذہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ اس سیر میں شامل ہوں گے۔اور پروگرام یہ تھا کہ یہ طلباء ریل گاڑی خیبر میل کے ذریعہ جائیں گے۔یہ امر مد نظر رہے کہ گاڑی خیبر میل ربوہ سے نہیں گزرتی تھی لیکن ریلوے حکام نے ان کی ہوگی خیبر میل کے ساتھ لگانے کی بجائے چناب ایکسپریس کے ساتھ لگانے کا فیصلہ کیا جو کہ ربوہ سے ہو کر گزرتی تھی۔درخواست یہ کی گئی تھی کہ ان طلباء کو دو بوگیاں مہیا کی جائیں اور پہلے پروگرام یہ تھا کہ یہ گروپ سیر کے لئے 18 مئی 1974ء کو سیر کے لئے روانہ ہو گا۔لیکن جب 18 مئی کو نشتر میڈیکل کالج کے طلباء اور طالبات اور ان کے کچھ اساتذہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ 18 / مئی کو ملتان کے ریلوے سٹیشن پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان کے لئے دو نہیں بلکہ ایک بوگی مخصوص کی گئی ہے۔اور یہ ہو گی اتنے بڑے گروپ کے لئے ناکافی تھی۔حالانکہ ریزرویشن کے