دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 515
515 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ایک طرف تو اس کارروائی کو سرکاری طور پر خفیہ رکھا گیا۔دوسری طرف جماعت کے مخالفین کی طرف جعلی کارروائی شائع کرائی گئی۔اور اس میں جگہ جگہ تحریف بھی کی گئی۔یہ مضمون اپنی ذات میں علیحدہ کتاب کا تقاضا کرتا ہے لیکن صرف حجم کا فرق ہی ثابت کر دیتا ہے کہ اس کارروائی میں جماعت کے مخالفین کو بد ترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور مسلسل شرمندگی اٹھانی پڑی تھی۔مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے یہ کارروائی " پارلیمنٹ میں قادیانی شکست “ کے نام سے شائع کی گئی اور اس کے مرتب مولوی اللہ وسایا صاحب تھے۔اس کے ٹائٹل پر ہی یہ دعویٰ درج ہے کہ قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کی مکمل روداد 66 اور ملاحظہ کیجئے کہ اس کتاب میں جماعتِ احمدیہ مبایعین پر ہونے والے سوالات اور ان کے جوابات صرف 180صفحات پر آگئے ہیں۔اور جب یہ کارروائی شائع ہوئی تو اس میں جماعتِ احمدیہ مبایعین پر ہونے والے سوالات اور ان کے جوابات ایسے ہی 1506 صفحات پر شائع ہوئے ہیں۔اس سے ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے اور وہ یہ کہ 80 فیصد کارروائی میں مخالفین کی طرف سے اُٹھائے گئے سوالات کا وہ حشر ہوا تھا کہ یہ مخالفین اسے تحریف کر کے بھی شائع نہیں کر سکتے تھے کیونکہ اس صورت میں انہیں شدید شرمندگی اٹھانی پڑتی تھی اور باقی 20 فیصد بھی بیچارے تحریف کر کے ہی شائع کر سکے اور اس کا نام ”مکمل کارروائی“ رکھ کر جھوٹا دعویٰ پیش کیا۔اگر انہیں کسی قسم کی بھی کامیابی نصیب ہوئی تھی تو یہ ناممکن تھا کہ یہ خود ہی اپنی فتح کا حال چھپاتے اور جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کردہ محضر نامہ “ میں دلائل اتنے مضبوط تھے کہ اب بھی قومی اسمبلی کی طرف سے جو کارروائی شائع کی گئی اس میں اس محضر نامہ کو شائع نہیں کیا گیا۔حالانکہ اسے اس سپیشل کمیٹی میں پڑھا گیا تھا اور یہ اس کی کارروائی کا حصہ تھا اور رہے مولوی صاحبان ، انہیں تو اپنی کتاب میں اس کو شائع کرنے میں اپنی موت نظر آ رہی تھی۔وو