دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 489 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 489

489 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا اعلان کیا تو مسلمانوں کا ردِ عمل کیا تھا اس کا اندازہ ان مثالوں سے ہوتا ہے۔مولانا محمد علی جوہر کے اخبار کامریڈ نے لکھا کہ انہیں ترکی سے ہمدردی ہے اور اس طرح ترکی کا برطانیہ کے مقابلے پر آنا تکلیف دہ بھی ہے لیکن پھر واضح الفاظ میں مسلمانوں کے بارے میں لکھا کہ ان کے جذبات کچھ بھی ہوں اس معاملے میں ان کا راستہ سیدھا سادا ہے انہیں اپنے ملک اور اپنے بادشاہ کے بارے میں اپنے فرائض کے بارے میں ذرہ بھر شبہ نہیں ہے۔ہم ایک سے زیادہ مرتبہ بغیر کسی جھجک کے یہ اظہار کر چکے ہیں کہ ترکی اور برطانیہ کی جنگ کی صورت میں ہندوستان کے مسلمانوں کا رویہ کیا ہو گا۔اس کو دہرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔جہاں تک ہندوستان کے مسلمانوں کے نقطہ نظر کا تعلق ہے، چونکہ وہ ہنر مجسٹی کنگ ایمپرر کے وفادار اور امن پسند رعایا ہیں ہمیں اعتماد ہے کہ مزید کسی یقین دہانی کی ضرورت نہیں ہے۔ان کے جذبات پر بہت بوجھ ہے لیکن وہ یہ بات نہیں بھول سکتے کہ وہ ہندوستان کی آبادی کا ایک بہت بڑا ہے۔ان اور بہت ذمہ دار حصہ ہیں اور تاج برطانیہ کی رعایا ہیں۔اس بحران میں ترکی کا معاملہ کچھ بھی ہو ہندوستان کے مسلمان اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ کوئی مذہبی معاملہ نہیں ہے۔“ (The Indian Muslims, A documentary Record 1900-1947 Vol 5, Compiled by Shan Muhammad, published by Menakshi Prakashan New Dehli p12) پھر مولانا محمد علی جوہر نے کامریڈ کی ایک اشاعت میں پہلی جنگ عظیم کے حالات کا تجزیہ کر کے لکھا کہ اگر ان حالات میں برطانوی گورنمنٹ ہمیں سیلف گورنمنٹ بھی دے دے تو ہم نہایت عاجزی سے اس کو لینے