دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 375
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 375 مسلمان نہیں اور دونوں نے یہ کہا کہ وہ جہنم میں جائے جائیں گے۔یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دے۔لیکن وہ جہنمی ہیں۔یہ بات نہیں ہے کہ ہم کافر کہہ رہے ہیں قادیانیوں کو۔اصل ان کو جہنم سے نکال نکال بات یہ ہے کہ وہ سارے مسلمانوں کو کافر کہہ رہے ہیں۔ہر وہ آدمی جو مرزا غلام احمد پر ایمان نہیں لاتا وہ ان کے نزدیک کافر ہے۔اور وہ جہنمی ہے اور یہی بات دونوں نے کہی۔“ پڑھنے والے خود دیکھ سکتے ہیں کہ جماعت کے وفد نے تو غیر احمدیوں کو مسلمان کہا تھا اور اس بات کو اس وقت اسمبلی کے سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب بھی تسلیم کرتے ہیں اور پروفیسر غفور صاحب نے بالکل خلاف واقعہ جواب منسوب کیا ہے۔بلکہ ڈاکٹر مبشر حسن صاحب کے جواب میں کچھ اضافہ جات بھی کئے ہیں یعنی دونوں وفود نے یہ کہا کہ ہم غیر احمدیوں کو نہ صرف غیر مسلم بلکہ جہنمی بھی سمجھتے ہیں۔یہ جواب نہ جماعت احمدیہ مبایعین کے وفد نے دیا تھا اور نہ ہی غیر مبایعین کے وفد نے یہ جواب دیا تھا۔اس کا پوری کارروائی میں کوئی ذکر نہیں بلکہ اس کے بالکل برعکس جواب دیا گیا تھا۔جس میں نہ کسی کے جہنم میں جانے کا ذکر تھا اور نہ کسی کے جہنم سے باہر آنے کا ذکر تھا۔یہاں پر مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا کہ ایک بچے نے جب اپنی کوئی خواب گھر میں بیان کرنی ہوتی تھی تو یہ کہنے کی بجائے کہ میں نے یہ خواب دیکھی یہ کہتا تھا کہ میں نے ایک خواب سوچی۔تو ان ممبرانِ اسمبلی نے یہ جواب سنے نہیں تھے بلکہ سوچے تھے۔اس پر ہم نے ان کی خدمت میں پھر عرض کی کہ میں نے یہ کارروائی پڑھی ہے۔یہ سوال تو کئی دن چلا تھا۔اور اصل میں تو سوال کچھ اور تھا۔جب اتنا اختلاف ہے تو پھر کیا اس کارروائی کو ظاہر کر دینا مناسب نہ ہو گا۔اس پر انہوں نے جواب دیا کہ آپ مطالبہ کریں ہم اس مطالبہ کی حمایت کریں گے۔اس پر ہم نے اپنے سوال کی طرف واپس آتے ہوئے کہا کہ میں نے یہ بات پہلے بھی پڑھی تھی۔لیکن جب کارروائی پڑھی تو اس میں یہ بات as such نہیں تھی۔اس پر پروفیسر غفور صاحب نے فرمایا