دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 370 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 370

370 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری ہے ، اس معیار کا کوئی غیر احمدی میرے علم میں نہیں ہے۔اور اس معیار کا ذکر پہلے ہم کر چکے ہیں کہ شخص میں اسلام کی حقیقی روح پیدا ہو گی جب یہ شخص خدا کی راہ میں اپنا تمام وجود سونپ دے اور اپنے تمام وجود کو خدا کی راہ میں سونپ دے۔اور اس کے تمام اعضاء اور نیات خدا کے لئے ہو جائیں۔اور وہ نیستی کے ساتھ خدا کے تمام احکام دل و جان سے قبول کرے۔اس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی اور چارہ جوئی کے لئے اپنی زندگی وقف کر دے اور دوسروں کو راحت پہنچانے کے لئے خود دیکھ گوارا کر لے۔اور وہ اپنا تمام وجود مع اپنی تمام خواہشوں اور قوتوں کے حوالہ بخدا کر دے اور اس کے تمام جذبات مٹ جائیں وہ خدا کے جلال کو کرنے کے لئے ہر بے عزتی اور ذلت کو برداشت کرنے کے لئے مستعد ہو۔اس درجہ کا فرمانبردار ہو کہ خدا کے لئے اس کا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو کاٹ سکے۔اور اس سے تعلق کا ثبوت دینے کے لئے اپنے تمام نفسانی تعلقات توڑ لے۔ظاہر یہ تھا معیار جس کا ذکر کیا جا رہا تھا۔اور ظاہر ہے کہ اگر ایک فرقہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے ایک مامور مبعوث کیا ہے تو اس کے انکار بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس کی تکفیر کے بعد بھی کیا کوئی یہ اعلیٰ مرتبہ سکتا ہے جس کا مذکورہ بالا حوالہ میں ذکر ہے تو پھر اس سے خدا کے فعل پر اعتراض اٹھتا ہے کہ آخر اس مامور کی بعثت کی ضرورت کیا تھی جبکہ اس کے بغیر بلکہ اس کی تکفیر کرنے کے بعد بھی تمام اعلیٰ مراتب حاصل کئے جا سکتے ہیں۔اور حضور نے اپنے جواب میں فرمایا تھا کہ ملت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے غیر احمدیوں میں سے میرے علم کے مطابق اس معیار کا کوئی نہیں ہے۔غیر احمدی مسلمانوں کو کافر کہنے کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا بلکہ ان کو ملت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والا کہا گیا تھا۔ان کو مسلمان کہا گیا تھا۔مخالفین جماعت کی طرف سے بھی قومی اسمبلی کی تحریف شدہ کارروائی شائع کی گئی ہے۔یہ شائع شدہ کارروائی بہت مختصر ہے۔چونکہ اکثر حصہ کو مولوی حضرات شائع کرنے کی کو مولوی حضرات شائع کرنے کی ہمت ہی نہیں کر سکتے تھے۔مگر جو