دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 301
301 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری گفتگو میں ایک مسئلہ مسلسل نظر آ رہا تھا۔وہ مسئلہ یہ تھا کہ وہ ایک سوال کرتے اور جب حضور اس کا جواب شروع فرماتے تو ابھی ایک دو فقرے مکمل نہیں ہوتے تھے کہ اٹارنی جنرل صاحب کوئی اور گفتگو شروع کر دیتے۔یہاں یہ یہ سوال اُٹھتا ہے کہ ایسا کیوں کیا جا رہا تھا؟ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے چونکہ اٹارنی جنرل صاحب اور سوالات تیار کرنے والی ٹیم کو اس قسم کے موضوعات کا نہ تو کوئی خاطر خواہ علم تھا اور نہ ہی ان موضوعات سے کوئی دلچسپی تھی۔وہ صرف ایک رسمی کارروائی کر رہے تھے۔دوسری ممکنہ وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ سوالات کرنے والے اس بات سے خائف تھے کہ حضرت خلیفة المسیح الثالث " کا کسی موضوع پر مکمل جواب سامنے آئے کیونکہ اس سے ان کے اُٹھائے گئے اعتراضات کا تانا بانا بکھر جاتا تھا۔اس لئے وہ یہ کوشش کر رہے تھے کہ بار بار بدل بدل کر سوالات کرتے رہیں اور زیادہ سے زیادہ کوشش کریں کہ کسی موضوع پر مکمل جواب سامنے نہ آنے پائے۔اس گفتگو کے دوران بیٹی بختیار صاحب نے کہا کہ وحی تو صرف نبیوں کو ہوتی ہے۔اب وہ ایک اور غلط بات کہہ گئے تھے۔قرآنِ کریم میں شہد کی مکھی کو بھی وحی ہونے کا ذکر ملتا ہے۔جب حضور نے اس بات کی نشاندہی فرمائی کہ وحی تو شہد کی مکھی کو بھی ہوتی ہے اور اس ضمن میں سورۃ نحل کی آیت 69 پڑھنی شروع کی تو اٹارنی جنرل صاحب نے ایک مرتبہ پھر قطع کلامی کر کے ایک اور سوال کرنے کی کوشش کی تو اس پر حضور نے انہیں یاد دلایا کہ ” میں قرآنِ کریم کی آیت پڑھ رہا ہوں۔“ لیکن وہ پھر بھی نہ سمجھے کہ یہ مناسب نہیں کہ قرآن کریم کی آیت پڑھی جا رہی ہو اور کوئی شخص بیچ میں اپنی بات شروع کر دے۔حضور نے مزید واضح کرنے کے لیے سورۃ القصص کی آیت 8 کا حوالہ دیا جس میں حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ کو وحی ہونے کا ذکر ہے اور اٹارنی جنرل صاحب کے پاس ان ٹھوس دلائل کا کوئی جواب نہیں تھا۔