دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 241
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 241 ابھی سپیکر صاحب کے یہ الفاظ ختم ہی ہوئے تھے کہ مفتی محمود صاحب نے جو عذر پیش کیا وہ بھی خوب تھا۔انہوں نے یہ دقیق نکتہ بیان فرمایا:۔”جناب والا ان کا یہ ہے کہ جلد میں مختلف ہوتی ہیں۔ہم صفحہ اور لکھتے ہیں اور کتاب ہمارے پاس دوسری قسم کی 66 آجاتی ہے۔ہمارے پاس تین حوالے تھے اب وہ ٹول رہے ہیں۔“ جو لوگ کتابوں کو دیکھنے سے کچھ بھی تعارف رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایک کتاب کے کئی ایڈیشن چھپتے ہیں، حوالہ دینے والے کا فرض یہ ہے کہ وہ حوالہ دیتے ہوئے ایڈیشن کا نمبر اور سن ،اس کے پریس اور ناشر کا نام وغیرہ بتائے اور جس ایڈیشن سے صفحہ نمبر نوٹ کر کے بیان کرے اسی ایڈیشن کی کتاب کارروائی کے دوران پیش کرے۔اگر ایک ایڈیشن سے حوالہ کا صفحہ نمبر نوٹ کیا جائے گا اور کتاب دوسرے ایڈیشن کی نکال لی جائے تو پھر ظاہر ہے کہ پیش کردہ عبارت اس طرح نہیں ملے گی اور اگر اصل الفاظ پیش کرنے کی بجائے الفاظ بدل کر پیش کیے جائیں یا پھر محض ایک مخالف کی کتاب سے جماعت کی کتاب کا فرضی حوالہ نقل کر کے پیش کر دیا جائے تو پھر خفت تو اُٹھانی پڑے گی۔ایسے بزرجمہروں کی عقل پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔مفتی محمود صاحب کے تبصرے سے تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ شاید انہیں کتابوں کو دیکھنے کا زیادہ تجربہ نہیں ہے۔ان کے ان جملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جماعت احمدیہ کے خلاف تین حوالے ڈھونڈے تھے اور پھر دوران کارروائی یہ حوالے نہ مل سکے۔لیکن یہ بات ناقابل فہم ہے کہ وہ کتابوں کو ٹول کر حوالہ ڈھونڈنے کی کوشش کیوں کر رہے تھے۔اگر ایک کتاب سے کوئی عبارت تلاش کرنی ہو تو اسے پڑھ کر تلاش کی جاتی ہے۔۔لیکن شاید سپیکر صاحب مفتی محمود صاحب کا دقیق نکتہ سمجھ نہیں پائے تھے۔انہوں نے کہا کہ اب جنرل ایگزامیشن ختم ہو چکا ہے۔اب زیادہ تر حوالہ جات کی بات شروع ہو چکی ہے دو تین حوالہ جات نہیں مل