دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 227 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 227

دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 227 بھی ہے لیکن شبیر عثمانی صاحب پر کوئی اعتراض نہیں اگر اعتراض ہے تو احمدیوں پر ہے جنہوں نے ان کی اقتدا میں نماز جنازہ نہیں پڑھی۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے اس موضوع پر گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے قائد اعظم کے جنازہ میں شامل نہ ہونے کے بارے میں الفضل 28/اکتوبر 1952ء کی اشاعت میں یہ explanation شائع ہوئی تھی۔”ابو طالب بھی قائد اعظم کی طرح مسلمانوں کے بہت بڑے محسن تھے مگر نہ مسلمانوں نے ان کا جنازہ پڑھا نہ رسولِ خدا صلی علیم نے “ حقیقت یہ ہے کہ یہ فقرہ الفضل کی اس اشاعت کے صفحہ 4 پر موجود ہے اور اٹارنی جنرل صاحب بالکل غلط کہہ رہے تھے کہ یہاں پر اس بات کی explanation دی گئی ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے قائد اعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا؟ یہاں اس موضوع کا کوئی ذکر نہیں۔مذکورہ تحریر میں یہ ذکر ہو رہا ہے کہ پاکستان میں کچھ لوگ قائد اعظم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں یہاں تک کہ آپ کے متعلق کافر اعظم کے الفاظ استعمال کرتے ہیں اور اگر انہیں روکا جائے تو کہتے ہیں کہ ہم نے قائد اعظم کا جنازہ پڑھ دیا تھا لہذا ہماری وفاداری رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔پھر یہ لکھا ہے کہ کیا جنازہ پڑھ لینا اور بعد میں گند اچھالنا اور برا بھلا کہتے رہنا کیا یہ محبت کی علامت ؟ اس کے بعد وہ جملہ درج ہے جس کا حوالہ اٹارنی جنرل صاحب پڑھ رہے۔ایک مرتبہ پھر اٹارنی جنرل صاحب حوالے کے بارے میں غلط بیانی کر رہے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے علماء کے جو چند فتوے پڑھ کر سنائے تھے وہ اسمبلی میں موجود مولوی حضرات کے لئے خاص طور پر پریشانی کا باعث بنے ہوئے تھے۔ان فتاویٰ سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ دیوبندی،