دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 200
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 200 انکار رکھتے ہیں۔ان کی اس کلمہ گوئی و ادعائے اسلام نے اور افعال و اقوال میں مسلمانوں کی نقل اتارنے ہی نے ان کو أَخْبَت وَ اَضَر اور ہر کافر اصلی یہودی ، نصرانی ، بت پرست ، مجوسی سب سے بد تر کر دیا۔۔۔“ (احکام شریعت۔ص 139۔مصنفہ احمد رضا خان صاحب) احمد رضا خان صاحب بریلوی کا فتویٰ جو رڈ الرفضہ کے نام سے شائع ہوا تھا اس میں لکھا ہے۔” بالجملہ ان رافضیوں تبرائیوں کے باب میں حکم یقینی قطعی اجماعی یہ ہے کہ وہ علی العموم کفار مرتدین ہیں۔ان کے ہاتھ کا ذبیحہ مردار ہے۔ان کے ساتھ مناکحت نہ صرف حرام بلکہ خاص زنا ہے۔معاذاللہ مرد رافضی اور عورت مسلمان ہو تو یہ سخت قہر الہی ہے۔اگر مرد سنی اور عورت ان خبیثوں میں کی ہو جب بھی ہر گز نکاح نہ ہو گا محض زنا ہو گا۔اولاد ولد الزنا ہو گی۔باپ کا ترکہ نہ پائے گی۔اگرچہ اولاد بھی سنی ہو کہ شرما ولد الزنا کا باپ کوئی نہیں۔جو ان ملعون عقیدوں پر آگاہ ہو کر بھی انہیں مسلمان جانے یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے خود کافر بے دین ہے اور اس کے لئے بھی یہ سب احکام ہیں جو ان کے لئے مذکور ہوئے۔“ (رَدَّ الرَّفْضَةِ ص 30 و 31 - مصنفہ احمد رضا خان بریلوی صاحب ناشر کتب خانہ حاجی مشتاق اندرون بوہر گیٹ ملتان) فتاوى الحرمين يرجف نَخْوَةِ المين، مطبع گلزار حسنی بمبئی میں درج چند فتاویٰ ملاحظہ ہوں۔اس کتاب میں مختلف نمایاں علماء کے فتاویٰ درج ہیں۔اور حرمین کے علماء کے فتاویٰ بھی شامل ہیں۔”اہلسنت کے سوا سب کلمہ گو اہل قبلہ گمراہ فاسق بدعتی ناری ہیں۔“ (صفحہ 29)