دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 181
دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری 181 وہ لوگ ہنستے بھی ہیں۔باتیں بھی کرتے ہیں اس طرف دیکھ کر مذاق بھی کرتے ہیں اور سر بھی ہلاتے ہیں۔آپ ان کو بھی چیک فرمائیں۔“ پہلی بات تو یہ ہے کہ اگر جماعت کے وفد کی طرف سے کوئی نا مناسب رویہ ظاہر ہوتا تو یہ کارروائی سپیکر کے زیر صدارت ہو رہی تھی اور وہ اسی وقت اس کا نوٹس لے سکتے تھے اور اٹارنی جنرل صاحب جو سوالات کر رہے تھے اس پر اعتراض کر سکتے تھے لیکن ساری کارروائی میں ایک مرتبہ بھی انہوں نے ایسا نہیں کیا۔اصل میں نورانی صاحب اور ان جیسے دوسرے احباب کو یہ بات کھٹک رہی تھی کہ وہ اس خیال سے آئے تھے کہ آج ان کی فتح کا دن ہے اور خدانخواستہ جماعت احمدیہ کا وفد اس سیاسی اسمبلی میں ایک مجرم کی طرح پیش ہو گا لیکن جو کچھ ہو رہا تھا وہ ان کی توقعات کے بالکل برعکس تھا۔کارروائی کے دوران جماعت کا وفد حضرت خلیفة المسیح الثالث کی اعانت کر رہا تھا اور اس عمل میں ظاہر ہے آپس میں بات بھی کرنی پڑتی ہے اور اس عمل میں چہرے پر کچھ تاثرات بھی آتے ہیں۔اور اسمبلی میں مسکرانا اور سر کو ہلانا کوئی جرم تو نہیں کہ اس کو دیکھ کر نورانی صاحب طیش میں آ گئے۔آخر اسمبلیوں میں انسان شامل ہوتے ہیں کوئی مجسمے تو اسمبلیوں کی زینت نہیں بنتے۔یہ واویلا صرف نورانی صاحب تک محدود نہیں تھا۔ایک اور ممبر عبد العزیز بھٹی صاحب نے بھی کھڑے ہو کر کہا کہ گواہ یعنی حضرت خلیفة المسیح الثالث سوال کو Avoid کرتے ہیں اور تکرار کرتے ہیں۔چیئر کا یعنی سپیکر صاحب کا فرض ہے کہ انہیں اس بات سے روکا جائے۔جہاں تک تکرار کا سوال ہے تو اس کا جواب پہلے آ چکا ہے کہ اگر سوال دہرایا جائے گا تو اس کا جواب بھی دہرایا جائے گا۔سپیکر صاحب نے انہیں جواب دیا کہ اگر اٹارنی جنرل صاحب یہ بات محسوس کریں کہ سوالات کے جواب نہیں دیئے جارہے تو وہ چیئر سے اس بات کی بابت استدعا کر سکتے ہیں۔اس پر اٹارنی جنرل صاحب نے کہا کہ ان کے لئے ضروری ہی نہیں ہے کہ وہ سوال