دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری

by Other Authors

Page 148 of 602

دوسری آئینی ترمیم 1974ء ۔ خصوصی کمیٹی میں کیا گزری — Page 148

148 دوسری آئینی ترمیم 1974ء۔خصوصی کمیٹی میں کیا گزری رہی تھی۔جگہ جگہ احمدیوں پر اپنے عقائد سے منحرف ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔احمدیوں کا بائیکاٹ جاری تھا بہت سے مقامات پر احمدیوں کے گھروں اور دوکانوں پر حملے کر کے ان کے ساز و سامان کو نذرِ آتش کیا جا رہا تھا۔بائیکاٹ اتنی مکروہ شکل اختیار کر گیا تھا کہ بعض جگہوں پر بچوں کے لیے دودھ لینا بھی ناممکن بنایا جا رہا تھا۔خانیوال میں چکی والوں نے احمدیوں کا آٹا پینے سے بھی انکار کر دیا۔28 / جولائی کو بھوپال والا میں احمدیوں کی مسجد جلا دی گئی۔ایک جگہ پر حجام احمدیوں کی حجامت تک نہیں بنا رہے تھے۔احمدی باہر سے ایک حجام لے کر آئے تو فسادیوں نے اس کا منہ کالا کر کے اسے ذلیل کیا۔یہ بات معمول بن چکی تھی کہ بس میں جہاں احمدی ملے اسے زدو کوب کیا جائے۔3/ اگست کو بھیرہ میں احمدی ایک فوت ہونے والی خاتون کی تدفین احمدیہ قبرستان میں کر رہے تھے کہ فسادیوں نے وہاں حملہ کر کے تدفین کو روکنے کی کوشش کی۔4/ اگست کو اوکاڑہ میں اعلان کیا گیا کہ ہم احمدیوں کو پاکستان میں نہیں رہنے دیں گے۔اس سے قبل بھی اوکاڑہ میں مخالفت کا انداز یہ تھا کہ احمدیوں کی دوکانوں کا اور کاروباروں کا بائیکاٹ کیا جائے۔نہ ان سے کسی کو چیز لینے دی جائے اور نہ ان کو کہیں سے سودا سلف لینے دیا جائے۔احمدیوں کی دوکانوں کے باہر ملاں بیٹھ کر اس بات کی نگرانی کرتے رہتے کہ کوئی ان سے سودا نہ خرید لے۔پھر دماغ کا یہ خلل اس حد تک پہنچ گیا کہ جو غیر احمدی عورتیں کسی احمدی کی دوکان سے کپڑا خریدنے لگتیں تو ان کو کہا جاتا کہ اگر تم نے ان سے کپڑا خریدا تو تمہارا نکاح ٹوٹ جائے گا۔جس کسی بیچاری نے یہ غلطی کی اس سے سر عام توبہ کرائی گئی اور بعض کے نکاح دوبارہ پڑھائے گئے۔اوکاڑہ میں مخالفین فسادات کی آگ بھڑکانے میں پیش پیش تھے ان میں سے کئی اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کی گرفت میں آئے۔کوئی پاگل ہوا۔کوئی اب تک سڑکوں پر بھیک مانگ رہا ہے اور کبھی کسی احمدی کے پاس آکر بھیک کا طلبگار ہوتا ہے۔کسی کی اولاد خدا تعالیٰ کے قہر کا نشانہ بنی۔میرک ضلع اوکاڑہ میں تو مخالفین کا غیظ و غضب اس حد تک بڑھا کہ انہوں نے پہلے احمدیوں کے گھروں کے آگے چھاپے لگا کر انہیں اندر محصور کر دیا۔جب پولیس نے آکر