غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 96 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 96

رق 96 کے حریف قریش مکہ سے جاملا اور وہاں جا کر اس جھوٹے الزام کی کھلم کھلا اشاعت کی کہ جو میں کہتا تھا اس کے مطابق وحی بنا کر لکھ لی جاتی تھی۔اسکی محاربانہ سرگرمیوں کے باعث اسے واجب القتل قرار دیا گیا۔اور بعض مسلمانوں نے نذر مانی کہ وہ اس دشمن خدا و رسول کو قتل کریں گے۔مگر یہ اپنے رضاعی بھائی حضرت عثمان غنی کی پناہ میں آکر معافی کا طالب ہوا۔آنحضرت میں ایم کیو ایم نے پہلے تو اعراض فرمایا مگر حضرت عثمان کی بار بار درخواست پر کہ میں اسے امان دے چکا ہوں حضور نے اسے معاف کر دیا اور اس کی بیعت قبول فرمائی۔بعد میں حضور میلیا میں نے اپنے صحابہ سے (جن میں عبد اللہ کے قتل کی نذر مانے والے صحابی بھی شامل تھے) امتحان کی خاطر پوچھا کہ جب تک میں نے معافی اور بیعت منظور نہیں کی تھی اس دوران عبد اللہ کو قتل کر کے اپنی نذر پوری نہیں کی اس کا کیا سبب ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا آپ کا ادب مانع تھا۔اگر فیصلہ کوئی دوسرا تھا تو آپ ادنی سا اشارہ ہی فرما دیتے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آنکھ کے مخفی اشارے کی خیانت بھی نبی کی شان سے بعید ہے۔اس طرح کلام پاک میں خیانت کے اس مجرم کے ساتھ بھی نبی کریم میل و یا لیلی نے یہ سلوک روا رکھنا گوارانہ فرمایا کہ اسے خاموشی سے قتل کروا دیا جائے۔اور غالبا صحابہ کو یہی سبق دینے کیلئے آپ نے ان سے یہ مسلمان سوال پوچھا تھا ورنہ وہ رسول امین جس نے یہ فیصلہ سنایا کہ ایک عورت نے بھی جسے امان دی وہ ہماری امان شمار ہوگی تو حضرت عثمان جیسے جلیل القدر صحابی کی امان کے باوجود نبی کریم ملی دیوی کی موجودگی میں کوئی کیسے جرات کر سکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی واضح فیصلہ سے قبل ایسا اقدام کرے۔بیعت کی قبولیت کے بعد عبد اللہ اپنے جرائم کے باعث حیاء کی وجہ سے نبی کریم ملی دلیل مل کے سامنے آنے سے کتراتا تھا تب اس رحیم و کریم