غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 92 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 92

92 کی ڈھارس بھی ضروری تھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت میں کو بذریعہ وحی انصار کی ان قلبی کیفیات سے اطلاع فرمائی۔آپ نے انصار مدینہ کا ایک الگ اجتماع کوہ صفا پر طلب فرمایا اور ان سے مخاطب ہوئے کہ کیا تم لوگ یہ باتیں کر رہے ہو کہ محمد پر اپنے وطن اور قبیلے کی محبت غالب آگئی ہے؟ انصار نے سچ سچ اپنے خدشات بلکہ کم و کاست عرض کر دیئے۔تب خدا کے رسول" نے انہیں اطمینان دلاتے ہوئے بڑے جلال سے فرمایا کہ اگر میں ایسا کروں تو دنیا مجھے کیا نام دے گی ؟ میں پوچھتا ہوں مجھے جاؤ تو سہی کہ بھلا دنیا مجھے کسی اچھے نام سے یاد کرے گی ؟ اور میرا نام تو محمد ہے یعنی ہمیشہ کیلئے تعریف کیا گیا۔تم مجھے کبھی بے وفا نہیں پاؤ گے۔بے شک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔وطن جو میں نے خدا کی خاطر چھوڑا تھا اب میں لوٹ کر کبھی اس میں واپس نہیں آسکتا ہوں۔میں تمہارا جیون مرن کا ساتھی بن چکا ہوں۔میرے یہاں رہ جانے کا کیا سوال؟ اب تو مجھے سوائے موت کے کوئی اور چیز تم جیسے وفاداروں اور پیاروں سے جدا نہیں کر سکتی۔تب انصار مدینہ جو جذبات عشق سے مغلوب ہر کر ان وساوس میں مبتلا ہوئے تھے سخت نادم اور افسردہ ہوئے کہ ہم نے ناحق اپنے آقا کی وفا کے بارے میں بدظنی سے کام لیا اور آپ کا دل دکھایا۔پھر کیا تھا وہ ڈھائیں مار مار کر رونے لگے اور روتے روتے ان کی ہچکیاں بندھ گئیں اور انہوں نے عرض کیا کہ خدا کی قسم ہم نے جو یہ بات کی تو محض خدا اور اس کے رسول کے ساتھ پیار کی وجہ سے کی تھی کہ اس سے جدائی ہمیں گوارا نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان وفادار ساتھیوں کو دلاسا دیا اور فرمایا اللہ اور رسول تمہارے اس عذر کو قبول کرتے ہیں اور تمہیں مخلص اور سچا قرار دیتے (مسلم کتاب الجہاد باب فتح مکہ)