غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 46
46 الغرض فتح خیبر کا دروازہ کھل گیا تو باقی قلعے بھی آہستہ آہستہ معمولی محاصرہ اور جنگ کے بعد فتح ہوتے چلے گئے۔یہاں تک کہ قموص کا مضبوط قلعہ جہاں یہود کی طاقت پھر جمع ہو گئی تھی ہیں دن کے سخت محاصرہ کے بعد فتح ہوا۔اب صرف دو قلعے وصیح اور سلالم باقی رہ گئے تھے جن میں بنو نضیر کا خاندان آباد تھا۔خیبر کے دس قلعوں کی فتح حاصل کر لینے کے بعد ان قلعوں کی فتح چنداں مشکل نہ تھی لیکن صلح و آشتی کے اس شہزادے کو تو دیکھو کہ جب ان دونوں قلعوں کے یہود تنگ آکر صلح کی درخواست کرتے ہیں تو آپ بلا توقف صلح کی طرف جھک جاتے اور جنگ پر صلح کو ترجیح دیتے ہیں اس صلح کی شرائط میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ان دونوں قلعوں کے یہود کا تمام مال مسلمانوں کے حق میں ضبط ہو گا اور جو شخص اس معاملہ میں جھوٹ یا قریب سے کام لے گا اور کوئی مال اور جنس چھپا کے رکھے گاوہ اس معاہدہ صلح کی حفاظت میں نہیں آئے گا اور غداری کی سزا کا حق دار ہو گا۔آنحضرت میام کو یہود کی بد عہدیوں کا تلخ تجربہ تھا۔آپ نے اس معاہدہ صلح پر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے علاوہ دس معتبر یہود کے بھی دستخط کروالئے۔(تاریخ الخمیس جلد دوم صفحہ ۴۶) اس کے باوجود ان قلعوں کے سردار کنانہ بن ربیع نے (جو حیی بن اخطب کا داماد تھا) معاہدہ شکنی کرتے ہوئے اپنا خزانہ کہیں کھنڈرات میں دفن کر دیا۔اس معاہدہ شکنی کے علاوہ کنانہ کا ایک اور جرم قتل بھی تھا کہ اس نے مرحب کے ساتھ مل کر جنگ میں وقفہ کے دوران محمد بن مسلمہ کے بھائی محمود بن مسلمہ پر چکی کا پاٹ گرا کر سخت ظالمانہ اور اذیت ناک طور پر قتل کیا تھا۔چنانچہ اس کے قصاص میں وہ قتل ہوا۔اور اس کے اہل و عیال بھی اس معاہدہ کی حفاظت میں نہ رہے اور قید ہوئے۔جن میں کنانہ کی نو بیاہتا بیوی زینب