غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 45 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 45

45 سے قبل خیبر کے کچھ جانور پکڑ کر ذبح کر لئے ہیں اور ان کا گوشت پک رہا ہے آپ نے فور آوہ ہانڈیاں توڑ دینے اور گوشت گرانے کا حکم دیا۔۔(بخاری کتاب المغازی) اس طرح آپ نے مسلمانوں کے جذبات ان کی بھوک اور فاقہ کی قربانی تو دے دی لیکن امانت اور دیانت کے اصول قربان کرنا گوارا نہ کیا۔آنحضرت میت کو خوب جانتے تھے کہ جب فتوحات کے دروازے کھلتے ہیں تو ان نازک لمحات میں برے اخلاق اور بد عادات بھی چور دروازوں سے داخل ہو جایا کرتے ہیں ، حتی کہ حلال و حرام کی تمیز بھی باقی نہیں رہتی۔اس مصلحت کے پیش نظر فتح خیبر کے موقع پر حلت و حرمت کے احکام کا اعلان کر کے آنحضرت علی نے مسلمانوں کیلئے کچھ پابندیاں لگا دیں۔میں پوچھتا ہوں کیا لوٹ کھسوٹ کرنے والے ایسی حد بندیاں قائم کیا کرتے ہیں ؟ فتح کے دوران تو رات کے بعض پرانے نسخے بھی مسلمانوں کو ملے جن کے بارے میں خیال تھا کہ تحریف سے پاک ہیں۔یہودی آنحضرت میر کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہماری کتاب مقدس ہمیں واپس کی جائے اور رسول کریم ملایا اور ہم نے صحابہ کو حکم دیا کہ یہود کی مذہبی کتابیں ان کو واپس کر دو۔مذہبی رواداری کی یہ کتنی عظیم الشان مثال ہے۔(سيرة الحلبيه جلد ۳ صفحه ۴۹) سوچنے کا مقام ہے کہ اس زمانہ کی یہودی تورات کا کوئی نسخہ آج مسلمانوں کے پاس محفوظ ہوتا تو تحقیق تحریف کے میدان میں اس کی کتنی قیمت ہوتی اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔لیکن اس رحمتہ للعالمین نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ یہودیوں کی کتاب کا ایک نسخہ بھی رکھ کر ان کو جذباتی تکلیف پہنچے خواہ اس کے مقابل مسلمانوں کو کتنا ہی فائدہ نہ ہوتا ہو۔