غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 32
32 یعنی اے نصرت یافتہ ! مار ڈال۔کیا حسین جرات مندانہ اور بامعنی پیغام ہے جو ایک جنگی کوڈ میں چھپا دیا ہے۔جس میں ایک طرف اس خدائی نصرت و تائید سے مسلمان مجاہد کا حوصلہ بڑھایا ہے تو دوسری طرف اسے جنگ میں لڑائی کے لئے ابھارا ہے۔اور پھر لطف یہ ہے کہ یہ ایسا کوڈ ہے جسے باسانی دشمن استعمال نہیں کر سکتا۔بھلا دشمن کیسے مسلمان مجاہد کو نصرت یافتہ اور فاتح کہنا گوارا کر سکتا ہے اور پھر اسے مار ڈال" کی دعوت کیسے دے سکتا ہے۔پس یہ رسول اللہ میں تعلیم کی فراست کی ایک خوبصورت اور لطیف مثال ہے۔کچھ احوال جنگ : محاصرہ کے ان ابتدائی ایام میں بعض اہم لرقم واقعات ہوئے، جن میں سے ایک واقعہ حضرت محمود بن سلمہ کے قتل کا ہے غالبا یہ جنگ کا تیسرا روز تھا۔محمود بن سلمہ اس دن خوب دلیری اور بہادری سے لڑے تھے۔گرمی بہت تھی جب وہ تھک گئے اور ان کے ہتھیار ان کو بو جھل محسوس ہونے لگے تو قلعہ کی ایک دیوار کے سائے میں ستانے کے لئے چلے گئے۔اس وقت لڑائی میں وقفہ ہو چکا تھا۔آپ لیٹے ہوئے تھے کہ قلعہ کے اوپر سے مرحب اور کنانہ دو یہودی سرداروں نے چکی کا پاٹ گرا کر آپ کو قتل کرنا چاہا۔اس شدید ضرب سے آپ کا لوہے کا خود ٹوٹ کر پیشانی میں دھنس گیا۔آنکھیں ضائع ہو گئیں اور چہرہ کا حلیہ بگڑ گیا۔مسلمان انہیں اٹھا کر رسول اللہ ملی یوی کے پاس لے گئے تو آپ نے خود اپنے دست مبارک سے ان کے چہرہ کی جلد اور گوشت کو درست کیا اور خود مرہم پٹی فرمائی۔لیکن یہ زخم حضرت محمود کے لئے جان لیوا ثابت ہوا اور آپ نے جام شہادت نوش فرمایا۔(تاریخ الخميس جلد ۲ صفحه ۴۶) محمود بن سلمہ کی شہادت کے بعد جب ان کے بھائی محمد بن مسلمہ رسول