غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 21 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 21

21 یعنی اے اللہ اگر تو ہدایت نہ کرتا تو ہم ہدایت نہ پاتے نہ خیرات کرتے نہ نماز پڑھتے جب تک ہمارے دم میں دم ہے ہم تجھ پر خدا اور قربان ہیں۔اے اللہ ! ہماری لغزشوں کو معاف فرما اور اگر دشمن سے ہمارا مقابلہ ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔دشمن نے ہم پر زیادتی کی ہے تو ہمیں سکینت عطا فرما۔جب دشمن فتنہ کا ارادہ کرنے ہم اس کا سختی سے مقابلہ کرتے ہیں۔اے اللہ ! ہم تیرے فضل و عنایت کے محتاج ہیں۔۔عقل محو حیرت ہے کہ عرب کے وہ بادیہ نشین اس پاک نبی کی صحبت سے صیقل ہو کر نور ایمان سے کیسے منور ہو گئے تھے کہ ان کی حدی کے اشعار میں بھی سچائی، پاکیزگی اور معنویت نظر آتی ہے۔ان اشعار میں دشمن کی زیادتی اور ظلم کا بے ساختہ اظہار جہاں خیبر کی طرف پیش قدمی کی وجہ کو ظاہر کرتا ہے وہاں دشمن کے مقابل پر ڈٹ جانے اور سکینت و ثابت قدمی کی دعا مسلمانوں کے عزم و ہمت کی آئینہ دار ہے۔کہتے ہیں کوئی بادشاہ تھا وہ کسی سے خوش ہو تا تو زہ کہا کرتا۔اس کا وزیر اس شخص کو (جسے وہ زہ کہتا) اشرفیوں سے بھری تھیلی انعام دیتا تھا۔مگر آج ہم آپ کو ایک روحانی بادشاہ کے دربار میں لے چلتے ہیں وہ شاہ دوسرا جسمں سے خوش ہوتا ہے اسے رحمہ اللہ کہہ کر رحمت کی دعا دیتا ہے اور روحانی عالم کا یہ بادشاہ محمد مصطفی میں دیا گیا اور جب یہ کلمہ کہتا ہے تو آسمانی بادشاہت کے درباری فرشتے ایسے شخص کے حق میں جنت کا فیصلہ کر دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ انعام ایک مسلمان کیلئے دنیا و مافیہا سے بڑھ کر ہے۔سفر خیبر میں حضرت عامر کے پاکیزہ مترنم نغموں سے خوش ہو کر اس محسن اعظم نے یہی دعا دی اور عامر کو خیبر میں شہادت کا عظیم الشان مرتبہ حاصل ہوا۔الغرض اس طرح بسرعت منزلیں مارتے ہوئے رسول اللہ میر