غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 14 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 14

14 ان تمام اشتعال انگیزیوں کے باوجود رسول کریم ملی کا ہی حوصلہ تھا کہ آپ نے خیبر کی طرف پیش قدمی نہیں فرمائی۔دراصل تمام غزوات میں آپ کی یہ کریمانہ شان نظر آتی ہے کہ آپ خون خرابہ سے بچنے کی کوشش فرماتے تھے۔چنانچہ یہود کی ہولناک سازشوں کا علم ہونے پر آپ نے خیبر پر حملہ کر کے انسانی جانیں تلف کرنے کے بجائے یہ مدافعانہ قدم اٹھانا پسند کیا کہ یہود کی اس مفسد قیادت کو ختم کر دیا جائے جو مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی چاہتی ہے۔چنانچہ ۶ھ میں یہودی سردار ابو رافع آپ کے ایماء سے سوتا ہوا مارا گیا۔(کتاب المغازی) ابو رافع کے بعد اسیر بن رزام یہود کی مسند ریاست پر بیٹھا اس نے یہود کو جمع کر کے کہا میرے پیش روؤں نے مسلمانوں کے مقابلہ میں صحیح قدم نہیں اٹھایا۔اب ہم محمد (میلی ) کے دارالخلافہ پر براہ راست حملہ کریں گے اور اس کے لئے اس نے ایک لشکر بھی تیار کیا۔(زرقانی جز ۲ صفحه ۱۷۰) آنحضرت علی نے حتی المقدور یہودی سازشوں کو جذبہ مصالحت سے دبانے کی کوشش کی۔یہود کی ان سازشوں اور اشتعال انگیزیوں کو مسٹر منٹگمری واٹ جیسا معاند اسلام بھی تسلیم کرتے ہوئے لکھتا ہے۔"بنو نضیر میں سے بعض نے خیبر جا کر مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کر دی تھیں اور جنگ احزاب میں مسلمانوں کے خلاف عرب قبائل کو اکسانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔پس چونکہ یہود خیبر نے عربوں کو محمد میں ایل ایلیا کے خلاف بھڑکایا تھا اس لئے محمد علی ایم کو ان پر حملہ کرنے کا سیدھا سادھا اور صاف جواز مل گیا۔ee محمد ایٹ مدینہ صفحہ ۲۱۷٬۲۶) لیکن خیبر پر یہ حملہ اچانک نہیں کیا گیا بلکہ یہود کی طرف صلح کیلئے ہاتھ