غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 107 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 107

107 مسلمانوں کی طرف سے (حنین میں) لڑائی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔" (لائف آف محمد صفحه ۴۲۵) پس فتح مکہ کا دن رسول اکرم میر کی ذات سے ہر تشدد کے الزام دور کرنے کا دن تھا جب مکہ کو پیغمبر اسلام کی شوکت و جلال نے ڈھانپ لیا تھا اور جب مسلمان فاتحین کے خوف سے عرب سرداروں کے جسم لرزاں تھے اور سینوں میں دل دھڑک رہے تھے۔جب مکہ کی بستی ایک دھڑکتا ہوا دل بن گئی تھی تو یہ وقت تھا کہ تلوار کے زور سے لوگوں کو مسلمان بنایا جاتا اور جائیدادوں پر قبضہ کیا جاتا لیکن یہ دن گواہ ہے کہ کہیں ایسا نہیں ہوا اور فتح مکہ کا یہ دن ابد الآباد تک محمد مصطفی میر کی ذات سے جبرو تشدد کے الزام کی نفی کرتا رہے گا۔حکومت مکہ اور عدل و انصاف کا قیام : فتح مکہ کے موقع پر قیام:۔نی کریم می ای ایم نے جہاں اپنے اخلاق فاضلہ کے ذریعہ عدل کے درجہ سے بڑھ کر اپنی قوم سے احسان کا سلوک روا رکھا وہاں ان پر یہ بھی واضح کردیا کہ آئندہ ان کے درمیان اسلام کے جس آئین و قانون کی حکمرانی ہوگی اس کی بنیادی بات عدل و انصاف ہے۔جسے کسی بھی صورت میں قربان نہیں کیا جا سکتا اور اس پہلو سے امیر غریب سب برابر ہیں۔چنانچہ اس موقع پر قریش کے ایک معزز قبیلہ بنو مخزوم کی ایک خاتون فاطمہ نامی نے کچھ زیورات چوری کرلئے۔اسلامی قانون کے مطابق اس کی سزا ہاتھ کاٹنا تھی۔مگر بنی مخزوم کے لوگ اسے اپنی توہین سمجھتے تھے۔چنانچہ انہوں نے نبی کریم ملی نیا و ریمیک کی عزیز ترین ہستی حضرت اسامہ کے ذریعہ آپ کی خدمت میں سفارش کروائی۔مگر ان لوگوں کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب آنحضرت میں نے اپنے ایک پیارے کی ناحق سفارش بھی