غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 97 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 97

97 اور عالی ظرف رسول نے اسے محبت بھرا پیغام بھجوایا کہ اسلام اس سے پہلے کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔i ابوداؤد کتاب الجھاد ii۔ابن ہشام جز ۴ صفحه ۹۲ iii۔سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحه ۱۰۳- ۱۰۴) ھبار کی معافی:۔اپنی واجب القتل مجرموں میں ایک شخص حبار بن الاسود بھی تھا۔جس نے رسول اللہ میں ایم کی صاحبزادی حضرت زینب " پر مکہ سے مدینہ ہجرت کے وقت نیزے سے قاتلانہ حملہ کیا جس سے وہ اونٹ پر سے ایک پتھریلی چٹان پر گریں۔آپ اس وقت حاملہ تھیں۔اس حادثہ کی نتیجہ میں ان کا حمل ضائع ہو گیا اور بالاخر یہی بیماری انکے لئے جان لیوا ثابت ہوئی۔اس جرم کی بناء پر حضور میں ہم نے اس کے قتل کا فیصلہ فرمایا تھا۔فتح مکہ کے موقع پر تو یہ بھاگ کر کہیں چلا گیا۔بعد میں جب نبی کریم میں لایا اور واپس مدینہ تشریف لائے تو صبار حضور ملی ایم کی خدمت میں حاضر ہوا اور رحم کی بھیک مانگتے ہوئے عرض کیا کہ پہلے تو میں آپ" کے ڈر سے فرار ہو گیا تھا مگر پھر آپ کے عفو و رحم کا خیال مجھے آپ کے پاس واپس لایا ہے۔اے خدا کے نبی! ہم جاہلیت اور شرک میں تھے خدا نے ہمیں آپ کے ذریعہ ہدایت دی اور ہلاکت سے بچایا۔پس میری جہالت سے صرف نظر فرمائیں بے شک میں اپنے قصوروں اور زیادتیوں کا اقراری اور معترف ہوں۔عفو و کرم کے اس پیکر نے اپنی صاحبزادی کے اس قاتل کو بخش دیا اور فرمایا جا اے ھبارا میں نے تجھے معاف کیا اور اللہ کا یہ احسان ہے کہ اس نے تمہیں قبول اسلام کی توفیق دی اور پھر اسے بھی تسلی دی کہ اسلام پہلے گناہوں کا ازالہ کر دیتا ہے۔(سیرت الحلبیہ جلد ۳ صفحہ ۱۰۶) ابو جہل کے بیٹے سے عفو: واجب القتل مجرموں میں دشمن