غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 44 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 44

44 رسول اللہ میں میا و ریمیک کی عظمت اخلاق کا حسین، روشن اور بلند و بالا مینار نظر آتا ہے کہ جسے سر اٹھا کر دیکھیں تو پگڑیاں گرتی ہیں۔ہاں! فتح خیبر میں فاتحین عالم کے بر خلاف مجھے محمد مصطفی میں اسلام کے خلق کی وہ عظیم الشان فتح نظر آتی ہے جو مفتوح قوم کے ساتھ حسن سلوک، عفو اور رحم اور احسان سے عبارت ہے۔فتح کے بعد قلعہ نائم کے ایک یہودی سردار نے آنحضرت میں کی خدمت میں حاضر ہو کر بعض مسلمانوں کی شکایت کی کہ وہ ہمارے جانور ذبح کر کے کھا رہے ہیں۔ہمارے پھل اجاڑ رہے ہیں اور عورتوں پر بھی سختی کی جا رہی ہے۔یہ یہودی دشمن ہونے کے باوجود بھی اس منصف مزاج رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے انصاف کی توقع لے کر آیا تھا اور آنحضرت میں سے اس یہودی کی یہ کچی توقع پوری ہوئی اور رسول اللہ علی نے حضرت عبد الرحمن بن عوف سے فرمایا کہ آپ گھوڑے پر سوار ہو کر مسلمانوں میں یہ اعلان کریں کہ جنت صرف مومنوں کو ہی ملے گی نیز سب کو نماز کیلئے بلانے کا ارشاد فرمایا۔جب صحابہ اکٹھے ہو گئے تو نماز کے بعد آنحضرت علی نے تقریر فرمائی۔آپ نے فرمایا کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں جو کچھ حرام کر دیا ہے اس کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں۔مگر یاد رکھو اس کے علاوہ بھی اوامر و نواہی مجھے دیئے گئے ہیں۔سنو! اللہ تعالیٰ تمہیں بلا اجازت اہل کتاب کے گھروں میں داخل ہونے اور ان کے پھل کھانے کی اجازت نہیں دیتا۔جب کہ وہ اپنا وہ حق ادا کر رہے ہوں جو ان کے ذمہ ہے۔(زرقانی جلد ۲ صفحه ۱۲۲۶ تاریخ میں جلد ۲ صفحه ۴۷) آنحضرت میں کو معلوم ہوا کہ بعض لوگوں نے یہ نصیحت کی تقسیم