غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 40
በ موجود اپنے اہل و عیال کی امان کا وعدہ لے کر آپ کو کئی اہم جنگی راز بتا دیئے۔اس نے بتایا کہ یہودی مسلسل جنگ سے تنگ آکر اس قلعہ کے فتح ہو جانے کے خوف سے اسے خالی کیا چاہتے ہیں۔(سيرة الحلبیہ جلد سوم صفحه ۴۰-۴۱) اس یہودی سے ملنے والی اطلاعات کی روشنی میں اگلے روز کیلئے آنحضرت میں نے زبردست منصوبہ تیار کیا۔پہلے چند دنوں کی جنگ سے متاثرہ اسلامی فوج کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے آپ نے اعلان فرمایا کہ کل میں لشکر کا علم اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ فتح بخشے گا اور وہ بڑھ بڑھ کر حملے کرے گا اور پیچھے نہیں ہے گا۔(سیرۃ الحلبیہ سوم صفحہ ۴۱) یہ رات بہت امید و بیم کی رات تھی۔وہ صحابہ جنہوں نے عمر بھر امارت کی خواہش نہ کی تھی آج اس امید اور تمنا سے رات کی گھڑیاں گن گن کر کاٹ رہے تھے کہ شاید فتح خیبر کی یہ پیشگوئی اور تقدیر ان کے ذریعہ پوری ہو۔( بخاری کتاب المغازی باب غزوہ خیبر) در اصل رسول اللہ علیہ کا تعلق محبت ہر صحابی سے ایسا گہرا تھا کہ ہر ایک کی نظر اس محبت پر تھی۔ہر ایک آپ کے عشق میں سرشار منتظر تھا کہ کیا معلوم جو قرعہ فال اس کے نام پڑے۔مگر یہ تو ایک الہی تقدیر تھی جو اگلے روز ظاہر ہوئی۔صبح ہوئی تو رسول اللہ میں اور ہم نے حضرت علی کرم اللہ وجمعہ کو بلوایا دعا کروائی اور علم حضرت علی کے حوالے کر دیا۔حضرت علی کو آشوب چشم کی تکلیف تھی۔رسول اللہ علی نے ان کی آنکھوں پر اپنا مبارک لعاب دہن لا ل لگایا۔خدا کے فضل سے ان کی آنکھیں اچھی ہو گئیں۔(سیرة الحلبيه جلد سوم صفحه ۴۲) غزوہ خیبر کے دوران آنحضرت میم کے ذریعہ ظاہر ہونیوالے متعدد