غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم

by Other Authors

Page 31 of 112

غزوات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خُلق عظیم — Page 31

31 رض تاریخ الخمیس جلد ۲ صفحه ۴۵) جو اکثر غزوات میں دیتے تھے کہ بوڑھوں، بچوں، عورتوں اور راہبوں پر حملہ نه کردن صلح اور احسان کی راہ اختیار کرنا۔اس روز خدا کا او الوالعزم رسول خود زرہ پہن کر میدان میں نکلا اور دشمن سے مقابلہ کیا۔پیچھے لشکر گاہ میں محافظ و نگران مقرر ہوتے تھے اور لشکر قلعوں کے پاس جا کر یہود سے مقابلہ کرتا تھا۔خیبر آنے کے دو تین روز بعد آنحضرت ملی اسلام کو درد شقیقہ کی تکلیف عود کر آئی جو پہلے بھی کبھی کبھی ہو جاتی تھی اور دو تین دن رہتی تھی۔ان ایام میں آپ بزرگ صحابہ حضرت ابو بکر حضرت عمرؓ، حضرت محمود بن سلمہ ، حضرت محمد بن مسلمہ ، حضرت حباب بن المنذر کو امیر لشکر مقرر فرما کر دشمن سے مقابلہ کے لئے بھیجتے رہے۔لشکر کا سیاہ رنگ کا بڑا جھنڈ ا عقاب جو اس غزوہ میں پہلی دفعہ حضرت عائشہ کی چادر سے تیار کیا گیا تھا امیر لشکر کے پاس ہو تا تھا۔بعض چھوٹے لواء مختلف دستوں کے سرداروں کو دیئے جاتے تھے۔ان ایام میں یہودیوں کی جنگ کا طریق یہ تھا کہ وہ کبھی تو قلعوں کے اندر سے پتھر اور تیر برسا کر مسلمانوں پر حملہ کرتے تھے اور کبھی قلعوں سے باہر نکل کر ان کے دروازوں کے سامنے میدان میں مقابلہ کرتے اور جب پسپا ہوتے تو دوڑ کر قلعوں میں داخل ہو جاتے اور قلعہ کے آدمی دروازہ بند کر لیتے۔تاریخ الخمیس جلد ۲ صفحه ۴۸ سیرت الحلبیہ، جلد ۳ صفحه ۴۱ - ۴۳) پہلے سات دن اس طرح یہود سے مقابلہ ہوتا رہا۔آنحضرت میں نے جنگ کے ان ہنگامی حالات میں مسلمان مجاہدوں کے لئے جو شعار (Code Word) مقرر فرمایا وہ آپ کی بامقصد زندگی کے اس روشن پہلو کو نمایاں کرتا ہے کہ آپ کے ہر فعل اور ہر عمل میں معنویت پائی جاتی تھی۔کوڈ تھا - يَا مَنْصُورُ امت (ابن ہشام جلد ۴ صفحه ۴۱)