خدا کی قسم — Page 6
خدا کی قسم 6 کے رسول تھے وہ وفات پاچکے ہیں۔ان کے دوبارہ اس دنیا میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔2 کسی مرسل من اللہ کے دعوے کی صداقت کے لئے جہاں اور دلائل و شواہد ہوتے ہیں۔ان میں سے ایک دلیل یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دعوے میں پورے یقین و وثوق کے ساتھ خدا تعالیٰ کو شاہد کرتے ہوئے پیش کرتا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ صادق اور کاذب کو جانتا ہے۔جھوٹا اور مفتری کبھی بھی خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کو نہیں پاتا۔اور حسب ارشاد ربانی قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى (سورة طه آیت (62) خدائی تائید ونصرت سے محروم اور ناکام و نامراد ہی نہیں رہتا بلکہ خدا تعالیٰ کی سزا کا حسب آیت قرآنی وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ O لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ O ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ (سورة الحاقة آيت 45 تا 47) کا مستوجب بنتا ہے۔3- حدیث نبوی میں وارد ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص مدینہ منورہ آیا اور اس نے صحابہ کرام کی موجودگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ اپنے دعوئی رسالت کو خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان فرما دیں۔اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دعوے کو حلفیہ بیان فرمایا تو اسی پر وہ آپ پر ایمان لے آیا۔چنانچہ بخاری شریف کی یہ حدیث مع ترجمہ درج ذیل ہے۔عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِكِ يَقُولُ بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَ عَقَلَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُمْ أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَكِى بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَقُلْنَا هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَكِيُّ فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَبْتَكَ فَقَالَ الرَّجُلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي سَائِلُكَ فَمُشَدَدْ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلَا تَجِدُ عَلَيَّ فِي نَفْسِك فَقَالَ سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ فَقَالَ أَسْأَلُكَ بِرَبَّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ اللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ فَقَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ أَ اللَّهَ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ اللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنْ السَّنَةِ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ أَ اللَّهُ أَمَرَك أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَى فَقَرَائِنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ نَعَمْ فَقَالَ الرَّجُلُ آمَنْتُ بِمَا