خدا کی قسم — Page 24
24 سراج منیر ”ہمارے دل کی اس وقت عجیب حالت ہے۔درد بھی ہے اور خوشی بھی۔درد اس لئے کہ اگر لیکھرام رجوع کرتا زیادہ نہیں تو اتنا ہی کرتا کہ وہ بدزبانیوں سے باز آ جا تا تو مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس کیلئے دعا کرتا۔اور میں امید رکھتا تھا کہ اگر وہ ٹکڑے ٹکڑے بھی کیا جاتا تب بھی زندہ ہوجا تا۔وہ خدا جس کو میں جانتا ہوں اس سے کوئی بات انہونی نہیں اور خوشی اس بات کی ہے کہ پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہوئی۔“ (روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 28) ’بارھویں پیشگوئی جو براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۳۸ اور ۲۳۹ میں لکھی ہے علم قرآن ہے اس پیشگوئی کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تجھ کو علم قرآن دیا گیا ہے ایسا علم جو باطل کو نیست کرے گا۔اور اسی پیشگوئی میں فرمایا کہ دو ۲ انسان ہیں جن کو بہت ہی برکت دی گئی۔ایک وہ معلم جس کا نام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور ایک یہ متعلم یعنی اس کتاب کا لکھنے والا۔اور یہ اس آیت کی طرف بھی اشارہ ہے جو قرآن شریف میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ یعنی اس نبی کے اور شاگرد بھی ہیں جو ہنوز ظاہر نہیں ہوئے اور آخری زمانہ میں ان کا ظہور ہوگا۔یہ آیت اسی عاجز کی طرف اشارہ تھا کیونکہ جیسا کہ ابھی الہام میں ذکر ہو چکا ہے یہ عاجز روحانی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگردوں میں سے ہے۔اور یہ پیشگوئی جو قرآنی تعلیم کی طرف اشارہ فرماتی ہے اس کی تصدیق کیلئے کتاب کرامات الصادقین لکھی گئی تھی جس کی طرف کسی مخالف نے رخ نہیں کیا۔اور مجھے اس ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مجھے قرآن کے حقائق اور معارف کے سمجھنے میں ہر ایک روح پر غلبہ دیا گیا ہے۔اور اگر کوئی مولوی مخالف میرے مقابل پر آتا جیسا کہ میں نے قرآنی تفسیر کے لئے بار بار ان کو بلایا تو خدا اس کو ذلیل اور شرمندہ کرتا۔سو فہم قرآن جو مجھ کو عطا کیا گیا یہ اللہ جل شانہ کا ایک نشان ہے۔“ (روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 41-40) براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۲۷ میں ایک آریہ کے متعلق ایک پیشگوئی ہے جس کا نام ملا وامل ہے