خدا کی قسم — Page 37
37 اور موت کی تمنا کر بیٹھے تو پھر اس کی موت نشان بن جاتی ہے۔جیسے ابو جہل نے جنگ بدر میں یہ تمنا کی کہ اے خدا جو ہم دونوں میں سے جھوٹا ہے اس کو اسی جگہ موت دے دے۔چنانچہ وہ جنگ بدر میں مارا گیا اور اس کی موت اسلام کی صداقت کا نشان بن گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جھوٹا سمجھتے ہوئے اور مقابلے میں اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہوئے جن جن لوگوں نے آپ کیلئے بددعا کی اور آپ کے سچا ہونے کی صورت میں از خود اپنی موت چاہی وہ سب کے سب ہلاک ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لوگوں کو یہ یقین دلانے کیلئے کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں، بارگاہ الہی میں یہ دعا کی بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ نحمده و نصلی علی رسوله الکریم رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ اے قدیر و خالق ارض وسما اے رحیم و مهربان و رہنما اے کہ میداری تو بر دلہا نظر اے کہ از تو نیست چیزے مسنتر گر تو می بینی مرا پر فسق و شر گر تو دید استی کہ ہستم بد گہر پاره پاره کن من بدکار را شاد کن، ایس زمرہ اغیار را بر دل شاں ابر رحمت ہا ببار ہر مراد شاں بفضل خود برآر آتش افشان بر در و دیوار من دمنم باش و تبه کن کارمن مرا از بندگانت یافتی قبله من آستانت یافتی در دل من آن محبت دیده کز جہاں آں راز را پوشیده با من از روئے محبت کارکن اند کے افشاء آں اسرار کن (روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 434) در ترجمه اے قادر اور زمیں و آسمان کے پیدا کرنے والے۔اے رحیم و مہربان اور رہنما۔اے وہ کہ جو دلوں پر نظر رکھتا ہے۔اے وہ ہستی