خدا کی قسم — Page 28
28 ضمیمہ رسالہ انجام آتھم سو ایک تقوی شعار آدمی کیلئے یہ کافی تھا کہ خدا نے مجھے مفتریوں کی طرح ہلاک نہیں کیا بلکہ میرے ظاہر اور میرے باطن اور میرے جسم اور میری روح پر وہ احسان کئے جن کو میں شمار نہیں کر سکتا۔میں جوان تھا جب خدا کی وحی اور الہام کا دعویٰ کیا اور اب میں بوڑھا ہو گیا اور ابتداء دعوئی پر بیس ۲۰ برس سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا۔بہت سے میرا دوست اور عزیز جو مجھ سے چھوٹے تھے فوت ہو گئے اور مجھے اس نے عمر در از بخشی اور ہر یک مشکل میں میرا متکفل اور متوتی رہا۔پس کیا ان لوگوں کے یہی نشان ہوا کرتے ہیں کہ جو خدا تعالیٰ پر افترا باندھتے ہیں۔اب بھی اگر مولوی صاحبان مجھے مفتری سمجھتے ہیں تو اس سے بڑھ کر ایک اور فیصلہ ہے۔اور وہ یہ کہ میں ان الہامات کو ہاتھ میں لے کر جن کو میں شائع کر چکا ہوں مولوی صاحبان سے مباہلہ کروں۔اس طرح پر کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کروں کہ میں در حقیقت اس کے شرف مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور در حقیقت اس نے مجھے چہار دہم صدی کے سر پر بھیجا ہے کہ تا میں اس فتنہ کو فرو کروں کہ جو اسلام کے مخالف سب سے زیادہ فتنہ ہے اور اسی نے میرا نام عیسی رکھا ہے۔اور کسر صلیب کے لئے مجھے مامور کیا ہے لیکن نہ کسی جسمانی حربہ سے۔“ (روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 51-50) پس یہ خدا کی رحمت اور خدا کا فضل ہے جو اس نے ہمیں ان تکالیف سے بچایا۔جن میں ہمارے مخالف گرفتار ہیں۔میں اس واحد لاشریک کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ اگر چہ مباہلہ سے پہلے بھی وہ ہمیشہ میرا متکفل رہا مگر مباہلہ کے بعد کچھ ایسے برکات روحانی اور جسمانی نازل ہوئے کہ پہلی زندگی میں میں ان کی نظیر نہیں دیکھتا۔“ (روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 314) دوششم اور اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی نہ کریں تو مجھ سے اور میری جماعت سے سات سال تک اس طور سے صلح کر لیں کہ تکفیر اور تکذیب اور بد زبانی سے منہ بند رکھیں۔اور ہر ایک کو محبت اور اخلاق سے ملیں اور قہر الہی سے ڈر کر ملاقاتوں میں مسلمانوں کی عادت کے طور پر پیش آویں۔ہر ایک قسم کی شرارت اور خباثت کو چھوڑ دیں۔پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدا