خُوبصورت یادیں — Page 44
خاتون صالحه 44 لجنہ اماء اللہ لاہور آپ کیا دیکھ رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں خدا کی قدرت دیکھ رہا ہوں۔پھر اٹھتے ہی والد صاحب فرمانے لگے کہ جو خدا کے نیک بندے ہوتے ہیں وہ تبلیغ کو کبھی چھوڑا نہیں کرتے"۔والد صاحب نے تین بار یہ جملہ دہرایا۔اور یہ کہتے ہوئے اپنی جان خدا کے سپرد کر دی۔اناللہ وانا الیہ راجعون اور جو گروپ مباحثہ کے لئے والد صاحب نے بلوایا تھا انہوں نے آپ کی نماز جنازہ میں شرکت فرمائی۔خدا کی قدرت کا عجیب نظارہ تھا جو ظہور میں آیا۔والد صاحب کی وفات کا حضور ایدہ اللہ تعالٰی کو بے حد دکھ ہوا۔جس کا ذکر محترمہ صاحبزادی امتہ الرشید بیگم صاحبہ نے خاکسارہ سے اس انداز میں کیا کہ جب آپ کے والد صاحب کی وفات کی اطلاع ابا جان (یعنی حضور) کو پہنچی تو ان کو اس خبر سے سخت صدمہ ہوا آپ نہایت بے قراری سے اپنے گھر کے دالان میں پھرتے رہے اور فرمایا کہ "آج ایک اچھا دوست چلا گیا اور ایک اچھا دوست ہم سے جدا ہو گیا"۔غرض اس مفہوم کے فقرات کا ذکر محترمہ صاحبزادی صاحبہ ہمارے والد صاحب کا ذکر آنے پر کئی مرتبہ فرماتی رہی ہیں۔کتنے خوش نصیب تھے ہمارے والدین جن کو خلیفہ وقت اپنی ذاتی توجہ سے سرفراز فرمایا کرتے تھے۔یہ دونوں میاں بیوی ایسے دو دیوانے تھے جو دین پر فدا ہونا مقصد حیات سمجھتے تھے جو دین کو دنیا پر مقدم کر کے دکھا گئے۔حضور کے فرمائے ہوئے اس مصرعے مل جائیں اگر دیوانے دو" کے مصداق بنتے نظر آتے رہے۔