خُوبصورت یادیں — Page 43
صالح 43 لجنہ اماء اللہ لاہور اختیار کرلی تھی ان کا ایک خط بھی ہمارے پاس موجود ہے جو والدہ صاحبہ کے دعا کے لئے لکھے گئے خط کے جواب میں آیا تھا کہ میں آپ کے اور آپ کے بچوں کے لئے دعائیں کرتا رہتا ہوں اور مجھے استاد مکرم ڈاکٹر صاحب (یعنی ہمارے والد صاحب) بھی یاد ہیں۔اسی طرح والد صاحب جب کلکتہ میں بارک پور چھاؤنی میں پوسٹ ہوئے (جو انکی زندگی کا آخری سٹیشن ثابت ہوا تو وہاں پہنچتے ہی اپنے حلقہ احباب میں تبلیغ کا سلسلہ قائم کرلیا۔اور جب والد صاحب نے محسوس کیا کہ ملٹری کی ملازمت کی وجہ سے نمایاں طور پر مباحثہ میں حصہ نہیں لے سکتا تو انہوں نے حضور کی خدمت میں لکھا کہ چند مولوی صاحبان کا قابل جید علماء پر مشتمل ایک گروپ کلکتہ بھیجوایا جائے تاکہ وقت مقرر کردہ پر پہنچ کر مباحثہ میں حصہ لے سکیں۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے محترم مولوی یار محمد صاحب کے ہمراہ چند افراد بھیجوا دیئے۔محترم مولوی صاحب نے کلکتہ پہنچ کر والد صاحب سے ملاقات کی اور پروگرام سیٹ کر کے جائے رہائش تشریف لے گئے۔اتفاق کی بات ہے کہ والد صاحب کے پیٹ میں اسی رات Cpeadea کی درد اٹھی اور اپریشن ہوا اور اگلے روز بے احتیاطی کے نتیجہ میں انکی وفات ہو گئی۔کیونکہ ہم گھر والے سب قادیان تھے اس لئے علم نہ ہو سکا۔لیکن ہم تک جو باتیں پہنچی ہیں وہ یہ تھیں کہ وفات سے کچھ دیر پہلے ان کے پاس سرہانے کھڑے ہوئے ایک دوست یا کولیگ نے والد صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب