خُوبصورت یادیں — Page 17
خاتون صالحه 17 الماء اللہ لاہور پابندی نماز کا بھی ذکر کیا کہ وہ یو نیورسٹی میں باقاعدگی سے نماز کے اوقات ر ایک کا کام چھوڑ کر علیحدہ اپنا ریسرچ کا کام چھوڑ کر علیحدہ کمرے میں نماز ادا کرنے چلی جاتی خدا کا شکر اور احسان ہے کہ ہماری بہن کو بیرون ملک تعلیم کے دوران حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی ان ہدایات پر عمل کرنے کی بھی توفیق ملی جو کہ باہر جانے سے پہلے حضور نے فرمائی تھیں۔جن میں مردوں سے ہاتھ نہ ملانا ” غیر مردوں کے ساتھ اکیلے نہ جانا " اور ہمیشہ گاؤن اور سکارف یونیورسٹی میں پہنے رکھنا اور ملک سے باہر اسلامی پردے پر قائم رہنا قابل ذکر ہیں اور ان پر عمل پیرا ہونے کے گواہ وہاں کے مشنری انچارج ہیں۔مشن ہاؤس سے عزیزہ نے ہمیشہ رابطہ رکھا۔ہیگ کی مسجد کے افتتاح پر جب پاکستانی طالبہ کی حیثیت سے عزیزہ کو شامل ہونے کا موقعہ ملا تو عزیزہ نے مشن ہاؤس ہی میں قیام کیا اور حضرت چوہدری سر ظفر اللہ خاں صاحب سے جب تعارف ہوا تو آپ از رام شفقت والد صاحب مرحوم ڈاکٹر غلام علی کے دوستانہ تعلق کے ناطے سے، عزیزہ امتہ الکریم کو ہیک کی عدالت عالیہ دیکھنے کے لئے ہمراہ لے کر گئے اور سیر کروائی یہ سب شفقتیں جو اب ہماری حسین یادیں ہیں یہ سب ہماری والد اور والدہ صاحبہ کی دینی ہستیوں سے قرابت کا تعلق رکھنے اور ہر حال میں دین کو دنیا پر مقدم رکھنے اور دینی تعلیمات دینے کا ثمر ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے آمین والدہ صاحبہ صابر شاکر خاتون تھیں دوسروں کے کام کرنے اور کروانے میں نہایت مدد گار ثابت ہوتی تھیں۔وہ دلائل سے قائل